پیپلز پارٹی کی ناقص حکمت عملی مخلوط حکومت کے خاتمے کا باعث بننے لگی

لندن (تجزیہ: خالد ایچ لودھی) برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی اور لیبر ڈیموکریٹ پارٹی پر مشتمل مخلوط حکومت برطانوی عوام میں مقبولیت کھوتی جا رہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں فلاحی مملکت کے تصور کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ مالیاتی امور میں کٹوتی اور اب دفاعی بجٹ میں خاصی کمی مخلوط حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں‘ اس کے علاوہ روز بروز بےروزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں پیپلز پارٹی کی انتہائی ناقص حکمت عملی مخلوط حکومت کے حاتمے کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے عوام کے خلاف مہنگائی کا محاذ تو قائم کر ہی رکھا تھا اب آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے خلاف بھی محاذ آرائی انتہائی نازک صورت حال اختیار کر چکی ہے‘ کرپشن بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ پیپلز پارٹی خود جماعت کے اندر بھٹوز کی طلسماتی کشش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی وجہ پارٹی پر زرداری مافیا اور دستر خوانی دوستوں کا غلبہ ہے جو پارٹی کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی ناکامی کا بڑا ثبوت ملک میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خاص طور پر جلتا ہوا کراچی ہے۔ بدعنوان حکمرانوں کے چرچے اب امریکی محکمہ خارجہ میں بھی ہونے لگے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا یہ بیان کہ ”اب پاکستان کے امیر خاندان ٹیکس ادا کرنے کی روش اختیار کریں“ میں صدر آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدانوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ امریکی تھنک ٹینک بڑے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا سیاسی طبقہ ملکی خزانہ لوٹ کر اثاثے بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف ہے‘ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی کمی‘ بار بار بدعنوان سیاستدانوں کے انتخاب کی اہم وجہ بن رہی ہے۔ یہ بھی آج پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ ہے۔ موجودہ حکومت رخصت ہو بھی جاتی ہے تو نئی حکومت کی کیا ضمانت ہو گی کہ وہ بدعنوانیوں سے پاک نظام حکومت لے کر آئے گی۔