مشرف نے پاکستان میں سیاسی رابطے بڑھانے کیلئے دبئی میں بھی گھر خرید لیا

لندن(خالد ایچ لودھی) سابق پرویز مشرف نے لندن میں اپنی خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے کیلئے یہاں کے انتہائی مہنگے علاقے ایجیویٹر میں فلیٹ خرید رکھا ہے اس فلیٹ کے قریب ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض بلوچ رہنما بھی رہائش پذیر ہیں جن سے پرویز مشرف خائف تھے لہٰذا اب پرویز مشرف نے متحدہ عرب امارات میں رہنے کیلئے بھی ایک گھر خرید لیا ہے۔دبئی کے اس گھر میں وہ اپنے آپکو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیںاور یہاں آ کر وہ پاکستان میں اپنے سیاسی روابط بھی مزید مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں گزشتہ دنوںخود انکی خواہش اور انکے میڈیا ایڈوائزران کی کوششوں سے برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز نے انکا خصوصی انٹرویو نشر کیا جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بچانے میں صرف اور صرف افواج پاکستان ہی اپنا کردارادا کرسکتی ہیں اور وہ جمہوریت بچانے کیلئے پوری مملکت کو داﺅ پرنہیں لگا سکتیں کیونکہ جمہوریت سے زیادہ مملکت زیادہ اہم ہے پرویز مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان کسی بھی وقت جا سکتے ہیں مگر وہاں کے حالات سازگار نہیں ہیں اور انکی جان کو خطرہ ہے امریکہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان کے بگڑتے ہوئے تعلقات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کا اثرورسوخ کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا رہا ہے جس سے اس امر کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے کہ اب ملک میں افواج پاکستان کو اپنا عملی کردار ادا کرنا پڑے گا۔