پاکستان کی سالہ تاریخ میں جمہوریت فوجی ادوار کے درمیان ایک وقفے کے طور پر آتی ہے: برطانوی اخبار

لندن (آصف محمود سے) پاکستان میں فوجی آمروں کے دور اقتدار میں نظریہ ضرورت کے تحت آئین میں ترامیم سے جمہوریت کے پنپنے کے بہت کم مواقع رہ گئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اسی وقت روبہ زوال ہوگئی تھی جب پہلے منتخب وزیراعظم لیاقت علی خاں کو ایک جلسہ عام میں قتل کردیا گیا تھا۔ برطانوی اخبار \\\"دی گارڈین\\\" نے اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں جمہوریت فوجی ادوار کے درمیان ایک وقفے کے طور پر آتی ہے۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد طاقت کا توازن فوج کے حق میں ہوگیا اور حیرت کی بات ہے کہ 1951ءسے 1957ءتک بھارت کا صرف ایک وزیراعظم تھا اور کئی آرمی چیف آئے لیکن پاکستان میں آرمی چیف صرف ایک رہا اور کئی وزیراعظم بدل گئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف تک کے فوجی ادوار میں ریاست کے ڈھانچے کو تباہ کردیا گیا جس میں صرف اشرافیہ نے فائدے حاصل کئے جبکہ ملکی وسائل سے غریب طبقہ محروم رہا۔ گارڈین کے مطابق گو کہ ہر پاکستانی طاقت رکھتے ہوئے یا اسکے بغیر جمہوریت کی بات کرتا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے تاحال کوئی اجتماعی جدوجہد نہیں کی گئی۔ پاکستان کا سیاسی کلچر اور حکومت تقسیم ہند سے قبل کے برطانوی راج کی پیداوار ہے اسلئے موروثی سیاست کا نظام چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے 50 سال گزرنے کے باوجود بھی جاگیردارانہ، قبائلی اور پنچائت جیسے نظام چل رہے ہیں۔ گارڈین کے مطابق جاگیردارانہ نظام پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری اور بیوروکریسی کی مضبوطی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بھارت میں 1953ءمیں ہونیوالی لینڈ ریفارمز سے غریبوں کو فائدہ ہوا لیکن اسکے برعکس پاکستان میں غریب جاگیرداروں اور وڈیروں سے تسلط سے آزاد نہ ہوسکا۔ اخبار کے مطابق پاکستان میں ان پڑھ، جاہل اور صلاحیتوں سے عاری وڈیرے جمہوریت کے ساتھ تجربے کرتے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سیاسی جماعتوں نے عوام کے حقوق کے تحفظ کے بلند و بانگ دعوے تو کئے لیکن پھر ذاتی مفادات کی خاطر انہیں پس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے پاکستانی سیاست کرپشن، نااہلی اور معاشی بحران کا سبب بنی۔ پاکستان کے جمہوری حکمرانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ جاگیردارانہ نظام کو ختم نہ کرسکنا ہے۔ پاکستان کو ایک جدید جمہوری ریاست بنانے کا ٹاسک بہت دور دکھائی دیتا ہے۔ ملک میں دہشت گردی، بجلی کے بحران، سیلاب اور دہشت گردی جیسے مسائل نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گارڈین کے مطابق آزادی سے لیکر مساوات، خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی جیسے حقوق لوگوں کو دینے سے موجودہ ڈیفیکٹو جمہوری نظام قاصر ہے۔ پاکستان میں منصفانہ گورننس، حقیقی جمہوریت اور سول سوسائٹی کیلئے صرف اسی وقت مواقع حاصل ہوسکتے ہیں جب جمہوری روایات کو آئین میں ترامیم اور تبدیل کئے بغیر پنپنے دیا جائے۔ آئین میں بار بار کی جانیوالی ترامیم سے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے جیسا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔