پاکستان میں سیاسی تبدیلی ناگزیر ہو گئی : لندن میں چہ میگوئیاں

لندن (خالد ایچ لودھی) پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ واشنگٹن کے امریکی محکمہ خارجہ کے انتہائی باوثوق ذرائع کے حوالے سے لندن میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ پاکستان میں غیریقینی کی موجودہ صورتحال سے خطے میں امریکی پالیسیوں کے تسلسل اور ان پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم سینئر مغربی سفارت کاروں نے جو رپورٹیں حالیہ دنوں میں اپنے ممالک کو ارسال کی ہیں ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی زندگی کا یہ انتہائی مایوس کن دور ہے، امن عامہ اور انتشار کی صورت حال سے قانون نافذ کرنے والے ادارے جمود کا شکار ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاکستان کے امور پر مامور سیل کے مطابق پاکستان میں تبدیلی کا فارمولا طے پا چکا ہے، اس ضمن میں تمام آپشن ابھی تک کھلے رکھے گئے ہیں، تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے لائی جائے یا عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں افواج پاکستان کے ذریعے کسی غیرجانبدار قوت کو سیاسی منظرنامے پر اُبھارا جائے۔ پاک فوج اس وقت ملک کے اقتدار کو سنبھالنے کی پوزیشن میں اس لئے نہیں کہ عوام میں اسکی پذیرائی مشکل نظر آ رہی ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو یہ پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ اب موجودہ سیٹ اپ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا نہ ہی مغربی ممالک اس حکومت سے کوئی امدادی لین دین کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ موجودہ منظر نامے میں قومی حکومت کی شکل میں سیٹ اپ تجویز کیا گیا ہے جس کا قیام سالوں پر محیط ہو گا۔