برطانیہ: دس پاکستانی طلبہ کےخلاف حکام کو دہشت گردی کا کوئی ثبوت نہیں ملا

لندن (آصف محمود سے) برطانیہ کے شہروں مانچسٹر اور لیول پول سے گزشتہ ہفتے انسداد دہشت گردی پولیس کی طرف سے گرفتار کئے جانیوالے 10 پاکستانی طالبعلموں کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت تاحال نہیں مل سکے البتہ برطانوی حکام کی طرف سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ان میں زیادہ تر طالبعلم بوگس کالجوں میں داخلے لیکر برطانیہ پہنچے تھے۔ اعلیٰ تفتیشی ذرائع نے نوائے وقت/ دی نیشن کو بتایا کہ مانچسٹر کالج آف پروفیشنل سٹڈیز نے اِن طلبہ کے برطانیہ آنے میں گیٹ وے کا کام کیا اور صرف 50 پاﺅنڈ یعنی 6 ہزار روپے کے عوض انہیں داخلے کے لیٹر بھجوائے گئے جو ویزہ حاصل کرنے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ اِن 10 پاکستانی طالبعلموں میں ایک طالبعلم 26 سالہ عبدالوہاب خان سے دوران تفتیش معلوم ہوا ہے کہ وہ اِس کالج میں انگلش لینگوئج کا طالبعلم تھا۔ اُس نے برطانوی حکام کو بتایا کہ سینکڑوں پاکستانی طلبہ جن میں زیادہ تر کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے اس کالج میں داخلے کے بعد برطانیہ آئے۔ عبدالوہاب خان کے مطابق اس کالج میں کبھی کوئی لیکچر نہیں ہوا جبکہ پورا کالج صرف دو کمروں پر مشتمل تھا جہاں کبھی کوئی استاد پڑھانے کیلئے نہیں آیا۔ یہ کالج گزشتہ سال برطانوی وزارت داخلہ کے ایک چھاپے کے دوران بدعنوانیوں کے باعث بند ہو گیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس کالج کے دو مالکوں نے بریڈفورڈ کالج آف پروفیشنل سٹڈیز کے نام سے دوسرا کالج جسے بعد میں برطانوی حکومت سے منظور کروایا۔ تحقیقاتی اداروں نے جب کالج کا انرولمنٹ رجسٹر دیکھا تو اس میں زیادہ تر تعداد سوات اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کی تھی۔ برطانوی وزارت داخلہ نے بریڈفورڈ کالج آف پروفیشنل سٹڈیز پر بھی چھاپے مارے ہیں جسے دو نوجوان پاکستانی 29 سالہ فیاض علی خان اور اسفندیار بشیر چلا رہے تھے۔ گرفتار ہونیوالے طلبہ نے بتایا کہ تقریباً تمام لوگ پڑھائی کی بجائے فل ٹائم کام کرتے تھے اور ویزہ ختم ہونے کی معیاد سے پہلے ہی کالج کو 1000 پاﺅنڈ دیکر لیٹر لے لیتے تھے اور اس طرح انکے ویزے کی تجدید ہو جاتی تھی۔ گرفتار طالبعلم عبدالوہاب خان کے متعلق یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ بعض اوقات دن میں تین تین دفعہ کالج صرف حاضری لگانے کیلئے آتا تھا کیونکہ برطانوی وزارت داخلہ نے کالجوں پر طلباءکی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے سختی کر رکھی تھی۔ عبدالوہاب خان کے ایک رشتہ دار نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ وہ کالج کے مالک فیاض خان کے ایما پر پچھلے سال دو دفعہ پاکستان گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبعلموں کو 6000 روپے کے عوض برطانیہ بلایا جا سکے۔