”مشرف کو وطن واپسی کیلئے عدالتوں کا سامنا کرنا پڑیگا“

لندن (تجزیہ: خالد ایچ لودھی) سابق صدر پرویز مشرف نے یہاں ”آل پاکستان مسلم لیگ “ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان میں بھوک و افلاس اور جہالت کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا اور کہا وہ پاکستان کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ پرویز مشرف کے ان اعلانات کے باوجود مستقبل قریب میں انکی پاکستان واپسی کے کوئی آثار نہیں۔ انہوں نے لندن کے وائٹ ہال کے جنٹلمین کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس میں سخت حفاظتی اقدامات کے تحت پاکستانی اور مغربی میڈیا سے خطاب کیا اور کہا پاکستان اب ایک ناکام مملکت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو دبے لفظوں میں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور ایک نئے سوشل معاہدے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان ترقی پسند اسلامی مملکت بن سکے اور تیسری دنیا کیلئے ایک نمونہ ہو۔ پرویز مشرف نے اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم تلے مذہب اور ذات برادری سے بالاتر ہو کر تمام مسلم لیگی دھڑوں کو یکجا ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اپنے دور اقتدار کے دوران اپنے بعض فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں معافی بھی مانگی۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ انکے بعض اقدامات سے سیاسی ماحول میں بے چینی اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی جس پر وہ پاکستانی قوم سے معافی کے طلب گار ہیں پاکستان میں اپنی موجودگی کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رہ کر انکی زندگی کو شدید خطرات درپیش ہونگے۔ ماضی میں ان پر حملے ہو چکے ہیں لہٰذا وہ زیادہ تر وقت بیرون ملک ہی رہ کر گزاریں گے اور 2013ءکے عام انتخابات میں انکی پارٹی بھرپور انداز میں حصہ لے گی اور انکو قوی امید ہے کہ وہ آئندہ پاکستان کے صدر یا وزیراعظم ہوسکتے ہیں یہ درست ہے کہ اب پرویز مشرف نے ایک بار پھر پاکستان کی عملی سیاست میں قدم رکھ لیا ہے اور وہ فوجی جنرل سے ہٹ کر ایک سویلین شہری ہونے کی حیثیت میں پاکستان میں اپنی سیاست چمکانے کے خواب دیکھ رہے ہیں مگر پاکستان کی سیاست میں پرویز مشرف کو اگرکوئی کامیاب سیاسی سفر کا آغاز کرنا ہے تو پھر پاکستان کی عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور اپنے دور اقتدار میں نواب اکبر بگٹی، بینظیر بھٹو اور لال مسجد جیسے اہم مسائل کے بارے میں اپنی پوزیشن کو واضح کرنا ہوگا لندن میں محض مغربی میڈیا میں ایک یورپی سٹائل میں اپنے من پسند صحافیوں کے درمیان پاکستان میں سیاسی سفر کے آغاز کو آسان کام تصور کرنا یقینا بہت مشکل کام ہے۔ پاکستان کی عملی سیاست میں حصہ لینا اور مغربی ممالک میں لیکچر دینا دو متضاد چیزیں ہیں پرویز مشرف ماضی میں پاکستان کو اولین ترجیح دیا کرتے تھے آج یہاں لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں فرق یہ ہے کہ آج فوجی جرنیل جلاوطن ہوا ہے اس سے پیشتر پاکستان کے سیاستدان جلاوطنی کی زندگی لندن میں گزارتے رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی نہایت دلچسپ ہے کہ برطانوی وزارت داخلہ میں سیکرٹری داخلہ کو بعض پاکستانی شخصیات نے مشترکہ طور پر ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ لندن کو پاکستانی سیاست کا مزید گڑھ نہ بننے دیا جائے کیونکہ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد لندن میں مقیم بعض سیاسی دھڑوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے جس پر خود برطانوی شہریوں کو بھی تشویش لاحق ہو چکی ہے۔ اب آنے والے دنوں میں خود برطانوی حکومت بھی برطانیہ میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔