کتابوں سے دوری

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
کتابوں سے دوری

مکرمی! پچھلے دنوں ایک کتاب میلے میں جانے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ وہ صرف نام کا ہی میلہ تھا کیونکہ وہاں گنتی کے کچھ ضعیف لوگ کچھ نوجوان موجود تھے۔ ایسا کیوں تھا؟ کیا ان لوگوں کو کتاب کی ضرورت نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کا عام ہونا ہے۔ مثلاً جتنی دیر طالب علم اپنے فارغ اوقات میں کتابوں پر لگاتے تھے۔ اتنی دیر اب فیس بک اور موبائل انٹر نیٹ پر چیٹنگ میں صرف کرتے ہیں۔ میں معزز طالب علموں کی توجہ دلانہ چاہوں گا کہ کتابوں اور لائبریریوں کی رونق ختم نہ کریں کیونکہ فیس بک پر علم و تعلیم کا اگر کچھ حصہ موجود ہے تو کہیں زیادہ فحاشی بھی موجود ہے۔ جبکہ کتابوں میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ صرف اور صرف علم و ادب اور روشنی ہی روشنی ہے۔ ایک تو پہلے ہی سے ہمارے ملک میں لائبریریوں کی کمی اور کتابوں کی مہنگائی زوروں پر ہے اور اوپر سے نوجوانوں کا مطالعے کا ذوق روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو ملک میں تعلیم نہیں صرف جہالت ہی فروغ پائے گی میں حکومت اور اعلیٰ حکام سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ نوجوانوں کو کتابوں کی طرف رغبت بڑھانے کے لئے مختلف پروگرام اور سیمیناروں کا انعقاد کریں تاکہ ملک و قوم جہالت کے بجائے علم کی طرف راغب ہوں۔ (مکرم ورک گورنمنٹ کالج ٹائون شپ)