سرکاری ہسپتالوں کی بدحالی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
سرکاری ہسپتالوں کی بدحالی

مکرمی! گزشتہ روز گنگارام اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جانا ہوا۔ وہاں کے حالات دیکھ دل غمزدہ اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مریضوں سے ڈاکٹرز کا رویہ ایسا دیکھنے میں آیا جیسا کہ ڈاکٹرز مریضوں کو چیک کرکے ان پر احسان کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ڈاکٹرز ہمارے دئیے ہوئے ٹیکس سے مراعات اور بھاری تنخواہیں لیتے ہیں۔ ایک غریب شخص تڑپ تڑپ کر مرجاتا ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں اسکا وقت پورا ہو گیا تھا اسے تو مرنا ہی تھا۔ مگر پیدا کرنیوالی ذات اللہ کی ہے اور زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ڈاکٹرز کو اگر مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے رکھا گیا ہے تو ان کا قومی فریضہ ہے کہ ان کو مکمل طرح سے چیک کریں اور ان سے ہمدردی سے پیش آئیں۔ دوسری طرف ہسپتالوں میں نہ ہی میڈیکل آلات ہیں اور نہ ہی مریضوں کیلئے بیڈز جہاں ان کا ٹریٹمنٹ ہوسکے۔ ڈاکٹرز چیک کرتے ہیں تو بس کہتے ہیں ایڈمٹ کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ ایمرجنسی میں ایک بیڈ پر چار چار مریضوں کو لیٹا کر چیک کیا جاتا ہے۔ میرا سوال وزیراعلیٰ پنجاب سے ہے کہ انکی گڈگورننس صرف میٹروبس اور سڑکوں تک محیط ہے؟ کہاں ہیں مشیر وزیر جو اتنا پروٹوکول لینے کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدامات کرتے نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف میڈیکل سپرنڈیٹ جو کہ (ایم ایس) ہوتا ہے اس کا صرف ہسپتال میں آنا ہی کافی ہے اس کا کوئی فرض نہیں ہے۔ ان تمام حالات سے وزیراعلیٰ کے مشیروں اور وزیروں کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کرے۔ میری التماس ہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے کہ وہ بجٹ کا کچھ حصہ ہسپتالوں کی تعمیر پر لگوائیں اگر وہ نئے ہسپتال بنانے کی سکت نہیں رکھتے تو کم از کم جو ہسپتال موجود ہیں ان کے حالات تو بہتر کردیں۔ ڈاکٹرز کی ٹرننگ کیلئے اور ان کی اخلاقی تربیت کو بہتر کرنے کیلئے بھی اقدامات کریں۔ (حافظ عبدالقادر، شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی)