وقت کی ضرورت

مکرمی! پاکستانی ایک قوم ہیں۔ ہرگز فرقوں او نسلوں کا مربہ نہیں کیونکہ اس کی بنیاد لاالہ الااللہ سے اٹھائی گئی ہے اور توحید میں کوئی تفرقہ نہیں۔ کیا ہماری حکومت میں اتنی جان ہے کہ اس قوم کی حفاظت کر سکے۔ پی پی نے ہر ماضی میں بہت غلطیاں کی ہیں کیا یہ اب ان غلطیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں؟
قائداعظم نے گول میز کانفرنس میں میز پر پاکستان کا مقدمہ جیتا۔ بھٹو صاحب نے میز پر زمین اور سپاہی حاصل کئے۔ کیا زرداری صاحب بحیثیت چیئرمین پیپلزپارٹی اسلاف کی یاد تازہ کرنے کی جرأت رکھتے ہیں؟ قائداعظم نے ہندوستان کے اندر اور باہر ہر دو محاذوں پر کامیاب جنگ لڑی۔ کیا آج کی ہماری لیڈر شپ میں اتنا دم خم ہے؟ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ پس قرآن کہتا ہے ’’اپنی سرحدوں پہ گھوڑے باندھو‘‘ لہٰذا تمام سرحدوں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اس میں یہ کہنا کہ یہ علاقہ ایسا ہے جو حفاظت کے لحاظ سے مشکل ہے بالکل لغو خیال ہے۔ ہمیں جغرافیائی اور اخلاقی دونوں سرحدوں کی سخت حفاظت کرنا ہے اسی میں ہماری بقا ہے۔ دہشت گردی کو روکنے کیلئے قومی شعور اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا قوم کو پابند کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک مسلمان انتقامی سیاست نہیں کرتا کیونکہ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ علاقہ غیر کے لوگوں سے امن معاہدہ کرنا اور انہیں ملکی سیاست کی سٹریم لائن میں لانا نہایت ضروری ہے۔ ہمیں امریکہ کے ساتھ بھی امن معاہدہ کرنا چاہئے کیونکہ یہود و نصاریٰ سے معاہدہ کرنا سنت نبویؐ ہے۔ میثاقِ مدینہ اس کی مثال ہے۔ جہانگیر بدر صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا تھا کہ سیاست میں زہد و تقویٰ نہیں ہوتا جس سے دکھ پہنچا۔ سیاست تو کہتے ہی تعاونو علی البرو تقویٰ کو ہیں۔ پس جو سیاست زہد و تقویٰ سے خالی ہو وہ خباثت رہ جاتی ہے۔ خود ہمارے حکمرانوں کو خباثت سے محفوظ فرمائے اور انہیں تقویٰ کی طرف آنے کی توفیق بخشے۔ (قانتہ شاہد ملک)