مبینہ پولیس مقابلے اور عدالتیں

مکرمی! صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے متعدد اضلاع میں مختلف نوعیت کے ملزمان کو ماورائے عدالت جعلی پولیس مقابلوں میں ’’پار‘‘ کرنے کا سلسلے ایک مرتبہ پھر شروع کردیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور شہریوں کو اسلحہ کی نوک پر لوٹنے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں مگر اس کیلئے ملک میں آزاد عدالتیں موجود ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں پولیس جیسے شتر بے مہار فورس اور وہ بھی پنجاب پولیس کو ’’لائسنس ٹو کِل‘‘ جاری کردینا پنجاب حکومت کو زیب نہیں دیتا کیونکہ ماضی میں بھی ایسے مبینہ پولیس مقابلوں میں کئی دشمن داروں نے جعلی مقابلوں کے ماہر پولیس افسروں کی ’’خدمات‘‘ حاصل کرکے اپنے دشمنوں کو ختم کروانے کیلئے لاہور پولیس کے انسپکٹروں کو استعمال کیا اور اس بہتی گنگا میں کئی پولیس انسپکٹروں نے اپنے ’’ذاتی کیس‘‘ بھگتائے اور اب ایسے متنازع مقابلوں پر عوام کا کہنا ہے کہ جب عدالتیں موجود ہیں تو پولیس خود سے قانون کو ہاتھ میں کیوں لیتی ہے حالانکہ اب نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدمات تیزی سے نبٹائے جا رہے ہیں۔ اگر پولیس محنت کرکے تمام ثبوت اور شواہد ٹھوس ایف آئی آر درج کرے اور ملزمان پر سخت دفعات لگائے تو عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان بھی ایسے ناسوروں کو کیفرکردار تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پنجاب پولیس کے موجودہ سربراہ طارق سلیم ڈوگر جعلی پولیس مقابلوں کے سخت خلاف تھے اور نجی محافل میں دلائل کے ساتھ اس حوالے سے دھواں دار تقاریر بھی کرتے تھے کہ پولیس کا یہ کام نہیں کہ وہ ازخود مجرم کو پکڑ کر مار دے۔ پولیس کا صرف اتنا فرض ہے کہ نیک نیتی سے ملزمان کو عدالت کے حوالے کرے۔ مگر اب معلوم نہیں کہ وہ کن مجبوریوں کے تحت ایسے مبینہ پولیس مقابلوں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہے اور اب دوسرے تیسرے دن پنجاب میں پولیس مبینہ مقابلے کا ایک نیا کیس سامنے آرہا ہے۔ پنجاب پولیس نے اب بھی اگر یہی کام جاری رکھنا ہے تو میرا بغیر فیس کے یہ مشورہ ہے کہ میڈیا نے عوام میں کافی حد تک شعور بیدار کردیا ہے لہٰذا پولیس برسوں پرانی ایک ہی رٹی رٹائی یہ خبر کم از کم میڈیا کی زینت نہ بنایا کریں کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر دیگر کی گرفتاری کیلئے انکو لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں کھڑے نامعلوم ملزمان نے ساتھیوں کو چھڑوانے کیلئے پولیس پر فائرنگ کردی اور جوابی فائرنگ میں دو ڈاکو ہلاک اور فائرنگ کرنیوالے نامعلوم افراد موقع واردات سے فرار ہوگئے۔ اس سے کم از کم پولیس کی جگ ہنسائی کم ہوگی اور مقصد بھی پورا ہوجائیگا۔(اویس قریشی 0321-4111554)