رحمان ملک صاحب ٗسروں کی قیمت لگانا بند کریں

’’شدت پسندوں‘‘ کے سروں کی قیمت آپ نے لگائی۔ انہوں نے اب آپ کے سر کی قیمت دس کروڑ لگا دی ہے۔ کیا حاصل ہوا؟ اس ملک کو رہنے کے قابل بنایا جائے۔ حضرت قائداعظمؒ نے اقبالؒ کے فرمان کے مطابق یہ ملک بڑی مشکل سے بنایا تھا اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں۔ گولی‘ گولوں اور سروں کی قیمت کے علاوہ بھی ایک راستہ ہے اور وہ بات چیت کا راستہ ہے۔ جرگے کا راستہ ہے اسے استعمال کیجئے۔ اللہ خیر کرے گا۔ (ایک قاری)