متاثرین ڈبل شاہ! کہیں پھر نہ لٹ جائیں

متاثرین  ڈبل  شاہ!  کہیں  پھر  نہ  لٹ  جائیں

مکرمی! مجھے ملنے والے اس تصدیق شدہ ٹیکسٹ میسیج میں اگر چند سو روپے ہتھیانے کا تذکرہ ہوتا تو ممکن ہے میں خاموش رہتا مگر ڈبل شاہ نیٹ ورکس کے ہزاروں متاثرین کیلئے مختص کروڑوں کی اس رقم پر شب خون مارنے کا یہ منصوبہ مجھ سے ہضم نہیں ہو رہا۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہو رہی ہے جو دھڑلے سے ’’اعلیٰ ترین عہدوں‘‘ پر فائز دو اہم ’’شخصیات‘‘ کے نام اس منصوبے میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف بطور ’’حربہ‘‘ استعمال کروا رہے ہیں۔ اس میسیج میں مجھے اس شخص کا نام بھی بتایا گیا ہے جو قانون کے برعکس 18 کروڑ روپے کے حصول کیلئے پرویز الٰہی کے پنجاب میں تعینات اعلیٰ افسر کے سابق رکن اسمبلی بھائی کے دبائو پر مطلوبہ رقم کے حصول کیلئے ناکام جدوجہد کر چکا ہے اور مایوسی کے بعد کچھ عرصہ قبل اعلیٰ ترین شخصیت کے قریب ایک وفاقی وزیر کی براہ راست مداخلت کروانے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے مگر خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اپنے ہدف سے ابھی تک کوسوں دور ہے۔ مجھے اس دوسرے شخص کی پھرتیاں بھی قابل داد نظر آ رہی ہیں جو اسلام آباد میں مقیم دوسری اہم شخصیت کا نام استعمال کرتے ہوئے 14 کروڑ 64 لاکھ کی ایک ایسی رقم ہتھیانے کی جستجو کر چکا ہے جس کا ریکارڈ اور نام ان لوگوں کی فہرست میں موجود ہی نہیں جو ڈبل شاہ نیٹ ورکس کے ساتھ لین دین کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود مجھے اپنے آپ کو طلسماتی کردار سمجھنے والے اس وفاقی وزیر پر حیرت ہو رہی ہے جو نہ جانے کس ‘‘نقاب پوش‘‘ کے اشارے پر دبائو کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ دسمبر اور جنوری میں انہی حوالوں سے ایسی دلچسپ ڈویلپمنٹس بھی میرے علم میں ہیں جب کئی حوالوں سے ڈبل شاہ کے ساتھ اربوں کا دھندہ کرنے والے ’’امیر کبیر‘‘ شخص کیلئے ’’اعلیٰ شخصیت‘‘ سے تعلقات کے دعویدار لاہور اور ملتان کے بوسن قبیلے کے دو افراد ایسی راہیں نکالنے کیلئے دبائو جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے جو کسی بھی قانون‘ اخلاق اور عوامی مرضی کے برعکس ہیں۔ یہ امیر کبیر شخص جو دبئی بھاگ گیا تھا مگر بعدازاں ایک ادارے سے آدھے ارب روپے کی واپسی کی ڈیل کر کے پاکستان لوٹ آیا تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اب مزید ایسے معاملات کیلئے دبائو استعمال کروا رہا ہے جس کے پیچھے مزید کئی کہانیاں چھپی ہیں۔ مجھے ملنے والے ایک دوسرے میسیج میں ان لوگوں کے نام بھی فاش کئے گئے ہیں جو 2 اضلاع کے رہائشی ان ایجنٹوں کیلئے سازشیں کر رہے ہیں جن کے کروڑوں کے اکائونٹس فریز ہو چکے ہیں۔ ان سفارشیوں کے نام پڑھ کر تو میں سوچنے لگا ہوں کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے دعویداروں کا اگر ’’وار‘‘ چل گیا تو ان ہزاروں متاثرین کا کیا بنے گا جن کے مال پر آج بھی اربوں روپے کی پراپرٹیوں کے مالک سینکڑوں نامی گرامی ’’ایجنٹ‘‘ پرتعیش زندگی گزارتے ایک نئے ڈبل شاہ کی نوید دے رہے ہیں! (حافظ عمر فاروق۔ وزیر آباد 0321-6248133)
آہنی گیٹ یا حفاظتی حصار
مکرمی! ایل ڈی اے نے اپنے خصوصی سکواڈ کی وساطت سے علامہ اقبال ٹاؤن میں نصب شدہ 70 آہنی گیٹ مسمار کر دئیے۔ اس میں شک نہیں ترقیاتی ادارہ گاہے بگاہے ایسے کام سرانجام دے کر عوام کو حیران کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اس کے پس منظر میں جانے کی کبھی کوشش نہیں کرتا ہے جیسا کہ ہم سب کو علم ہے۔ موجودہ دور میں زبردست سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں اور ہر ذی شعور انسان اس احساس میں شدت سے مبتلا ہے کہ اس کی جان و مال کا رکھوالا کون ہے؟ کیا وزیراعلیٰ پنجاب سارے کام خود ہی انجام دے سکتے ہیں‘ کیا ہماری پولیس اپنے محدود وسائل سے اس سٹریٹ کرائم کو روک سکتی ہے؟ ہر ایک انسان پریشان ہے کہ اس مسئلے سے کس طرح نمٹا جائے! بڑھتی ہوئی دہشت گردی‘ بم بلاسٹ آئے دن کے واقعات نے عام شہری کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ گیٹ لگنے سے گلیوں میں گارڈز کی وجہ سے انہوں نے سکھ کا سانس لیا تھا اور قدرے محفوظ سمجھتے تھے۔ واردات کی صورت میں 15 پر کال اور فوری عمل سے پُرسکون زندگی گزار رہے تھے اب ان کا جینا محال ہو جائے گا۔ اب انہیں LDA اپنے حصار میں لیکر گلیوں کے گیٹ توڑ کر خدا جانے کن ناکردہ گناہوں کی سزا دے گی۔ اب کون ہے جو ان کے زخموں سے رستے لہو کی چبھن کو محسوس کرے۔ دن بھر کام مزدوری کرکے تھک ہار کر گھر لوٹنے والے کم از کم رات بچوں کے ساتھ سکون سے رہنا چاہنے والے یہ انسان کس کرب سے گزریں گے؟ کاش! کوئی اس کا احساس کرے۔ یہ گیٹ انہیں سکیورٹی مہیا کرتے ہیں جو خالصتاً ان کی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر ہوئے ہیں۔ کیا اس کا متبادل ترقیاتی محکمہ کے پاس ہے‘ کیا عوام الناس کو ہر گلی میں یہ سکیورٹی مہیا کر سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ بڑے شوق سے ایل ڈی اے اپنے اس کام کو سرانجام دے ورنہ خدا کیلئے آپ کے پاس موجود بیشمار عوام کے مسئلے پڑے ہوئے ہیں۔ اپنی توجہ ان کی جانب مبذول کرکے لوگوںکے دکھوں کو کم کرنے میں ان کی مدد کریں اور انہیں سکون کے ساتھ اپنی مدد کے تحت بنائے ان گیٹوں میں رہنے دیں اور ان کی دعائیں بھی لیں۔ شاید یہی عمل مغفرت کا باعث بن جائے۔
(ایس اے جبار (سیکرٹری جنرل) چناب ویلفیئر ایسوسی ایشن‘ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور)
زندگی ‘ موت کی جنگ
مکرمی! میں پانچ سال سے ہیپاٹائٹس سی کا مریض ہوں۔ میں ایک کوریئر کمپنی میں ملازم تھا اور آٹھ سال تک سروس کی۔ مرض کی تشخیص ہونے پر مجھے جاب سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد گزر بسر اور علاج معالجہ کے اخراجات کیلئے ایک دکان بنائی مگر اس کا سرمایہ علاج کے اخراجات کی نذر ہو گیا۔ اب میں موت و حیات کی کشمکش میں ہوں‘ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور اہل ثروت لوگوں سے علاج معالجہ کیلئے مدد کی اپیل ہے۔ علاج کے لئے ساڑھے 3 لاکھ درکار ہیں۔ (سید قمر رضا۔ نظام آباد محلہ غالب علی شاہ وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ۔ فون نمبر 0300-7430010‘ 0334-5542723)
قبضہ گروپ کی پھر کارروائی
مکرمی ! میرے والد چوہدری محمد عنایت کو علامہ اقبال ٹاؤن کی طرف سے ایک عدد دکان 1972ء میں لیز پر ملی تھی۔ میرے والد کے فوت ہونے کے بعد ایک بااثر شخص اپنی بیوی کے نام جعلی کاغذات بنوا کر قبضہ کرنا چاہتا تھا جس پر میں نے ٹاؤن کے دفتر جا کر اپنی دکان کی ملکیت کا ثبوت دیا جس پر ٹاؤن آفیسر رانا محمد اشرف صاحب نے ہمیں ہمارا حق دلوایا۔ اب پھر بااثر شخص رشوت دے کر ہمارے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہمیں دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ میری وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام سے اپیل ہے کہ مجھے قبضہ گروپ سے تحفظ دلایا جائے۔
(ہمایوں احمد سبزی منڈی رائے ونڈ تحصیل و ضلع لاہور‘ فون 4260524۔ 0333)
’’بدامنی‘ ڈپریشن اور گھریلو پریشانیاں‘‘
مکرمی! اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ظاہری حالت یہ ہے کہ یہ ملک اس وقت بم دھماکوں‘ چوریوں چکاریوں اور لوٹ مار کیلئے کھلا ملک ہے جس کا جو جی میں آئے یہاں آ کر کرے‘ خواہ اپنے بغیر پائلٹ کے طیاروں میں یہاں بمباری کرے اور اپنی راہ لے اور اس حالت میں ہمارے نومنتخب صدر صاحب امریکی ریاست کی گورنر سارہ پالن کو گلے لگانے کے خواہشمند ہیں۔ قوم کے نونہالوں کا یہ عالم ہے کہ یہ شدید قسم کے ڈپریشن اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ماں باپ اولاد سے بیزار ہیں اور اولاد ماں باپ سے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ چار پانچ اولادوں میں سے کسی ایک سے انتہائی محبت بھرا سلوک کر رہے ہیں اور کسی سے انتہائی کم تر‘ بہن بھائی آپس میں لڑ مر رہے ہیں۔ اب تو گھروں میں یہ عالم ہے کہ شادی سے پہلے ہی بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے سے بول چال بند رکھتے ہیں۔ آج جوائنٹ فیملی ایک عذاب بن گیا ہے بلکہ آج کل تو یہ عالم ہے کہ ماں باپ رشتہ طے کرتے وقت یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکا اکیلا ہو یعنی اس کی ماں ہو نہ باپ‘ لڑکیاں خود ہی اپنے رشتے ڈھونڈ رہی ہیں کیونکہ دوسری صورت میں اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں۔ اعلیٰ سٹیٹس کی وجہ سے لڑکیوں کو مناسب رشتے ملنا بہت مشکل ہو گئے ہیں کیونکہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے آج کل کم پڑھے لکھے ہیں۔ طلاق کی شرح میں اضافہ اور محبت کی شادی میں ناکامی میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ محبت کی شادی کی صورت میں جو توقعات ایک دوسرے سے لگائی جا رہی ہیں وہ پوری نہیں ہو رہیں۔
(بتول ضیاء ماسٹر ماس کمیونیکیشن گیریژن پوسٹ گریجویٹ کالج لاہور)
حقیقت اس کے برعکس ہے
مکرمی ! آپ کے روزنامہ نوائے وقت میں 29 جنوری 2009 میں کالم ’’بیٹھک‘‘ میں بعنوان ’’ہے کوئی ہماری ٹکر کا؟‘‘ پڑھا۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ کیبنٹ میں حالیہ توسیع کو کچھ حلقوں میں بڑی تنقید کا سامنا ہے۔ یہ درست ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہمیں ایسی مثالیں نہیں ملتیں لیکن تنقید کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو اس حالت تک پہنچنے میں کتنے سال لگے اور انہوں نے کون کون سے تجربات کا سامنا کیا۔ موجودہ حکومت نے جن حالات میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی وہ سب کے سامنے ہے اور اس وقت وطن عزیز کسی بھی طرح کی سیاسی اکھاڑ بچھاڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی Reconciliation کی پالیسی ہی فی الوقت ہمارے مسائل کے حل کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور کابینہ میں توسیع اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان پارٹیوں کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جو عموماً سے قومی سیاسی دھارے سے باہر رہی ہیں۔ اس عمل سے ان پارٹیوں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور یقیناً وہ مسائل کے حل میں بہترین مددگار بن سکتے ہیں۔ (فرحت جبین‘ لاہور)
قاتل، مقتول اور پولیس؟
قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور سرقہ بالجبر کی وارداتوں میں ہر روز اضافے نے نہ صرف عوام الناس میں خوف و ہراس، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھایا ہے بلکہ حکومت کی رٹ بھی مشکوک اور عوام کا پولیس پر اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ بے شمار قتلوں کی ایف آئی آر محض اس لئے درج نہیں کروائی جاتی کہ مقتول کے لواحقین تھانے اور کچہریوں کے اخراجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتے اور ستم بالائے ستم یہ کہ تھانوں اور کچہریوں میں جو خجل خواری ہوتی ہے وہ مظلوم کیلئے ایک عبرتناک تجربے سے کم نہیں۔ ہم مجموعی طور پر بے حسی اور خودغرضی کے ماحول میں رہ رہے ہیں، سماجی اور اخلاقی قدریں بری طرح پامال ہوچکی ہیں پہلے بہت حد تک گائوں، قصبوں اور شہروں کے گلی محلوں میں رشتہ داریوں سے قطع نظر سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے اور غریب امیر میں فخر و انبساط کی بنیاد پر نفرتیں بھی نہیں تھیں۔ عام طور پر چند لوگ ہی امیر ہوا کرتے تھے اور ان کی امارات کے ذریعے بھی ہر کس و عام کے علم میں ہوتے تھے۔ راتوں رات ناجائز ذرائع سے امیر ہونے کا تصور بھی نہیں تھا اور نہ ہی آج کے نو دولتیوں کے پیسے اور حیثیت کی نمودونمائش تھی، انسانی ہمدردی اور خداترسی عام تھی۔پھر اچانک ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی قدروں پر ایسی یلغار ہوئی کہ ہم اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوتے چلے گئے۔ طعنہ اور غنڈہ گردی، دولت ، عہدے اور زور آوری معیار تکریم بن گئے۔ تھانے عوامی تحفظ کی بجائے عقوبت خانے اور کچہریوں میں نیلام گھر کی طرح انصاف کی بولیاں لگنے لگیں۔ جائز روزگار اور انصاف عام آدمی کی پہنچ اور دسترس سے باہر چلا گیا۔ ناجائز سفارشیں اور اقربا پروری نے قومی اداروں میں نااہل اور بدعنوان اہلکاروں کی بھرمار کردی۔ بیوروکریسی سیاستدانوں کے دروازوں پر منفعت بخش پوسٹنگ اور استحقاق سے ہٹ کر مراعات لینے کے لئے مقتدر سیاستدانوں کے دروازوں پر دست بستہ لائنوں میں لگنے لگے۔ مویشی منڈیوں کی طرح ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کے بازار لگنے لگے۔ سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے یا اپنا تابع بنانے کیلئے احتساب بیورو اور خصوصی عدالتیں قائم کری جانے لگی۔ پولیس کی ذمہ داری مقتدروں کے سیاسی حریفوں پر ناجائز مقدمے بنانے سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، جیل اور کوڑوں کی سزائیں دلوانا ہی رہ گیا۔ امن و امان قائم رکھنا اور اصل مجرموں کی گرفتاری ان کے فرائض منصبی سے بہت دور نکل گئی۔(میجر (ر) حبیب الرحمن خان میؤ ایڈووکیٹ)