آیات الٰہی کا نگہبان کدھر جائے

مکرمی! پاکستان گوناں گوں مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ویسے دنیا کے کم ہی ممالک ہونگے جہاں ہر طرف چین کی بنسری بج رہی ہو لیکن پاکستان کے مشرق اور شمال مغرب میں واقع بھارت اور افغانستان دو ایسے ہمسائے ہیں جن کو پاکستان کے ساتھ ازلی عداوت ہے۔ بھارت کا معاندانہ رویہ قابل فہم ہے۔ جس طرح عربوں بالخصوص فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا پس منظر اظہرمن الشمس ہے۔ ہماری بدقسمتی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیشتر اسلامی ممالک میں حکمران امریکی انتخاب یا کم از کم امریکی آشیرباد سے برسراقتدار آتے ہیں اور امریکی ایجنسیوں کا ہی بالآخر شکار ہو کر کیفرکردار تک پہنچ جاتے ہیں۔پاک افغانستان بارڈر پر بھارتی ایجنسی را اور یو ایس اے اور نیٹو ممالک کیلئے سراغرسانی کی خدمات سرانجام دینے والی ایجنسیاں سی آئی اے‘ موساد وغیرہ اہل اسلام خصوصاً پاکستان کے قدرتی دفاعی حصار کو مسمار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور ستم ظریفی دیکھئے کہ اس کارِ خیر میں جانے والے آمرِمطلق سے لیکر آنیوالے جمہور کے نمائندگان بھی دامے درمے سخنے بادل نخواستہ ہی سہی‘ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود دشمنوں کے تخریبی عمل میں معاون ہیں اور جارحانہ عزائم کا سدباب کرنے سے قاصر ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ وزراء بالخصوص وزیر دفاع برملا ایک تسلسل کے ساتھ قوم کی حوصلہ شکنی کیلئے بیانات داغ رہے ہیں کہ ہم حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اپنی سرزمین‘ مقدس سرزمین کا دفاع نہیں کرینگے‘ کیوں؟ ع …ناطقہ سر بہ گریباں اسے کیا کہئے
عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ پاکستانیوں کیلئے جہاد‘ جو پاکستانی افواج کا ماٹو چلا آرہا ہے‘ کب سے شجر ممنوعہ ہوگیا ہے؟ چیچنیا‘ بوسنیا‘ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر تو داستان پارینہ ہوچکیں پاکستانی سرحدوں کے تقدس کی پامالی بھی ہماری مشتِ خاک کی سردی کا مداوا نہ کر سکی۔
مسلم ’ہندی‘ چرا میدان گذاشت…ہمت او بوئے کراری نہ داشت
مشتِ خاکش ہمچناں گردیدہ سرد…گرمیٔ آوازِ من کارے نہ کرد
جہاد میں شمولیت کی خواہش اور باطل کی سرکوبی کا جذبہ اگر فنا ہو کر رہ جائے تو نام نہاد مسلمانوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے‘ علامہ اقبالؒ تو اس نبوت اور امامت کو برگِ حشیش سمجھتے ہیں جو قوت اور شوکت سے عاری ہو؎
وہ نبوت ہے مسلماں کیلئے برگِ حشیش…جس نبوت میں نہ ہو قوت و شوکت کا پیام
جہاد کو اگر کوئی فتنہ و فساد کا ہم معنی سمجھتا ہے تو یہ یورپی اقوام کی نافہمی اور پروپیگنڈا کا شاہکار بھی کہا جاسکتا ہے جس کے سحر میں بیشتر مسلم حکمران گرفتار ہو کر ترکِ جہاد کی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں اور جس خطۂ زمین میں بھی شہادت کی موت کی لذت سے باخبر مسلمان موجود ہیں اس کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں……
ہمارے ترجمانِ حقیقت اور دانائے راز نے جو کچھ فرمایا‘ ملاحظہ کیجئے؎
باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے…یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر!
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے…مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات…اسلام کا محاسبہ‘ یورپ سے درگزر
(پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی … کارکن تحریکِ پاکستان)
سلجھانے اور الجھانے والے
مکرمی! اسلام کا فکر کرنے والے بعض لوگ بات کو سلجھاتے نہیں الجھاتے ہیں۔ کیسے؟ کہ قرآن کی صاف سیدھی باتوں کی بجائے مشکوک انسانی باتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ بات سمٹتی ہے تو تینوں اکو الف درکار، سے ہم معتوب ہیں تو قرآن میں بنی اسرائیل کی بتائی ہوئی خامیوں کی وجہ سے یعنی الہامی کتاب سے ہٹ کر بے راہ روی کی وجہ سے۔ اللہ کی باتوں کی بجائے انسانی باتوں کو فوقیت دینے سے۔ اللہ نے صاف صاف انتباہ کیا ہے کہ اگر راہ راست سے ہٹے تو تمہاری بجائے اور لوگوں کو لے آؤنگا۔ یہ پیغام کل انسانیت کے لئے ہے جن کی آسمانی کتابوں کا پیغام ایک ہی ہے۔ قرآنی زبان میں ان سب کا دین اسلام ہے اور اسلام کے ماننے والے سب مسلمان ہیں۔ معیار تقویٰ ہے نہ کہ یہ کہ کسی کا مذہب کیا ہے۔ صاف سیدھی مثال دیتا ہوں کہ سندھ میں ہندو آبادی کافی ہے۔ اپنے عزیزوں دوستوں سے علم ہوا کہ وہ ہندو دکاندار سے سودا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ تقویٰ عزت کا باعث بنا۔ اسی تقویٰ کی بناء مڈل ایسٹ کے مسلمان ممالک میں سکھوں اور ہندوؤں کی کارکردگی تحسین کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ دنیا والوں کی نظر میں ہم مسلمانوں کے اعمال ہمارے نبی برحق کی عظمت کا باعث ہوتے ہیں اور قرآن کی سچائی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ رسول کریم کی امت ہونے اور حامل قرآن کے اعزاز کا تقاضہ ہے کہ اپنے عمل میں خوبی لا کر عزت حاصل کریں نہ کہ ہنود و یہود کو طعن کی پٹی پڑھتے رہیں۔ ( معین الحق 266-P ماڈل ٹاؤن لاہور 042-5164587)
ایگزیکٹو امتحانات پرائمری ایجوکیشن
مکرمی! سالانہ امتحان کا سنٹر گورنمنٹ E/S چرڑ ڈیفنس روڈ بنایا گیا ہے۔ ہم سب کو وہاں پر بچوں کو لے کر جانا اور واپس لے کر آنا نہایت مشکل کام ہے کیونکہ یہ سکول مین روڈ پر ہے اور ٹریفک بہت زیادہ ہے جس میں کچھ بچے سائیکل وغیرہ پر اور کچھ بچے پیدل بھی جاتے ہیں جس سے لیٹ ہونے کا بھی خدشہ ہے کیونکہ بچے چھوٹے ہیں جس سے حادثات سے دوچار ہونے کا فکر رہتا ہے جبکہ سابقہ سنٹر گورنمنٹ E/S چوہنگ خورد بنایا گیا تھا جو کہ ارد گرد کے تمام سکولوں کے نزدیک ہے اور ٹریفک کا بھی کوئی اندیشہ نہیں ہے اور سکول میں بچے پیدل بھی جا سکتے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ گورنمنٹ E/S چوہنگ خورد ہی سینٹر ہونا چاہئے۔ اہل علاقہ اساتذہ سے ملکر مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے خواجہ سعد رفیق کے پاس گئے اور ان سے بھی اپیل کی اور میاں نصیر صاحب کو بھی اپیل کی لیکن کوئی بہتر حل نہ نکل سکا۔ محکمہ تعلیم سے ہماری درخواست ہے کہ عملدرآمد کیا جائے۔ (شاہد صدیقی … الفلاح ٹائون لاہور کینٹ)
باپ بیٹے کے قاتل آزاد‘ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں
مکرمی! میرے والد رانا حبیب خان کو اغوا کرکے مخالفوں نے 4ماہ قبل قتل کر دیا تھا۔ نامزد ملزموں کو پولیس نے مکمل تحفظ فراہم کیا اور ملزموں پر ہاتھ نہ ڈالا جس کی وجہ سے چند روز قبل انہوں نے میرے بھائی حافظ اعجاز احمد کو بھی گھر میں محصور کرکے قتل کر دیا۔ پولیس پھر وہی کھیل کھیل رہی ہے۔ ہمارے گھر کا محاصرہ 16 کے قریب ملزموں نے کیا تھا جبکہ جو گولی جان لیوا ثابت ہوئی وہ رانا زبیر نے چلائی تھی۔ پولیس نے ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔ جو ہمیں دھمکاتے ہیں اور کیس کی پیروی سے روکنے کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم پولیس کے رویے سے دلبرداشتہ ہیں جو ملزموں کو گرفتار نہیں کر رہی۔ وزیر اعلیٰ سے گزارش ہے کہ ملزموں کے ظلم کی وجہ سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے قبل پولیس کو ملزموں کی گرفتاری اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا پابند کیا جائے۔ (رانا امتیاز احمد ولد حاجی رانا حبیب خان (مرحوم) گاؤں جاگوکے گھمن۔ تحصیل پتوکی تھانہ سرائے مغل‘ ضلع قصور۔ فون نمبر۔0300-8456277)
معذور کا خادم پنجاب کے نام خط
مکرمی میں آنکھوں سے محروم ہوں۔ میں چار معصوم بچوں کا باپ ہوں نیز مقروض بے گھر اور مجبور ہوں اس معذوری کی حالت میں معصوم بچوں کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہنے پر مجبور ہوں اور اب کرایہ دینے کی بھی سکت نہیں رہی۔ اس سے پہلے آپ نے بہت سی تقاریر میں معذور افراد کی بھلائی کی بات کی ہے جو کہ معذور افراد تک پہنچنی بھی چاہئے۔ اس سے پہلے میں 2 جون 1991ء کو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب سے ایک ملاقات میں یہ تمام رونا رو چکا ہوں۔ انہوں نے میری بہت سی انکوائریاں کروائیں مگر آج تک میں آپ دونوں بھائیوں کی مدد سے محروم ہوں۔ التماس ہے کہ میری محرومی اور میرے چار معصوم بچوں کی کفالت کر کے تازندگی حکمران رہو۔ (قاری محمد سعید الرحمان 199 سی انگوری باغ سکیم نمبر 1 باغبانپورہ لاہور 0332-4625053)
مسلم لیگوں کا اتحاد
مکرمی، یہ پیارا ملک پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے بہت قربانیاں اور محنت سے حاصل کیا ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں نے اپنی عزتیں جانیں جگر گوشوں کو قربان کر کے ملک حاصل کیا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی جان مال زمین گھر بار سب کچھ مسلم لیگ اور پاکستان پر قربان کر دیا پھر یہ پاکستان حاصل کیا ہماری بزرگ عورتیں آج تک اپنے پیاروں سے بچھڑ کر یا تو مرچکی ہیں یا پھر ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں میں قید ہیں۔ آج بھی ہمارے جیسے گھرانے جو ہندوستان میں خوشحال تھے آج پاکستان اور مسلم لیگ کی خاطر سب کچھ قربان کرکے بے گھر اور بے اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہ سب کچھ ان لوگوں نے اسلام پاکستان اور مسلم لیگ کی خاطر قائداعظم محمد علی جناح کے حکم پر کیا تاکہ مسلمانوں کو ایک آزاد ملک اور خوشحال ملک نصیب ہو جائے جہاں پر مسلمان آزادی سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ آج ہمارا پیارا ملک ہمارے حکمرانوں کی غلطیوں کی وجہ سے شدید بحران میں گھرا ہوا ہے اور پاکستان کے دشمن پاکستان کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ جبکہ ہمارے مسلم لیگ کے رہنما اپنے اپنے دھڑوں میں تقسیم ہیں اور اپنی اپنی انا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج مسلم لیگ کے کسی سیاستدان کو معلوم نہیں ہے یا پھر یہ بھول چکے ہیں کہ یہ پیارا ملک قائداعظم محمد علی جناح ان کے ساتھیوں اور مسلم لیگ کے کارکنوں نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے آج مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے مسلم لیگ کے لیڈر اور رہنما اپنی اپنی جنگ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ہمارے پیارے بزرگ محترم جناب مجید نظامی صاحب اور ان کے بھائی محترم حمید نظامی مرحوم صاحب نے پاکستان بنانے میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ محترم مجید نظامی کی کوشش ہے اور مسلم لیگی لیڈروں کو اپنے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم پکار پکار کہہ رہے ہیں خدا کے لئے پاکستان کو بچانے کے لئے اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ایک ہو جاؤ آپس کے اختلافات کو ختم کر دو۔ مسلم لیگ کے تمام کارکنوں کی خواہش بھی یہ ہے کہ تمام مسلم لیگیں ایک ہو جائیں مسلم لیگ کے تمام رہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ محترم مجید نظامی کی بات کو مان لیں اور ان کا ساتھ دیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ دو… مجید نظامی کا ساتھ دو۔ ( کارکن مسلم لیگ راؤ محمد مشتاق یو سی 97 گلبرگ لاہور فون نمبر 0302-4325337)