ڈرون ایک ڈراﺅنا تماشہ

مکرمی!اللہ جانے امریکہ کس طرح کا امن چاہتا ہے۔ گزشتہ آٹھ دس برسوں میں لاکھوں افرد کو لقمہ اجل بنا کر بھی اوروں کو دہشت گرد کہنے والا کون ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یقیننا¿ کوئی سٹپٹایا ہوا خالی الذہن ہی بنتا ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کو بے گناہ مار کر دنیا پر اپنی دھاک جما سکے گا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ تیمور لنگ، ہلاکو خان،چنگیز خان،ہٹلر،فرعون اور نمرود بھی لوگوں کو بلا وجہ قتل کیا کرتے تھے۔ ان کا نام آج جس انداز میں لیا جا رہا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔وزیرستان کا حال ناقابل بیان۔ سوات کی حالت ۔۔۔؟ بلوچستان جیسے پاکستان کا حصہ ہی نہیں۔ کشمیر پر بیک ڈور ڈپلومیسی۔یہ کس جگہ کا انصاف ہے اور کیسا انصاف ہے۔ اب بات راولپنڈی تک آ پہنچی۔ (راجہ شہزاد معظم)