مصطفےٰ برساں خویش را دین ہمہ اوست

مکرمی! آپ نے اپنی حیات طیبہ کے دوران مومنین اور مشرکین کے مشترک اور علیحدہ علیحدہ اجتماعات کو کئی بار خطاب کیا تھا لیکن خطبہ حجة الوداع میں آپ کا انداز خطابت بہت مختلف اور اس حقیقت کا غماز تھا کہ اب امت سے مفارقت واقع ہونے میں باقی ایام تھوڑے رہ گئے ہیں اور آنحضور اپنے 23 سالہ دورِ نبوت کی محنت شاقہ کا ثمر ایک لاکھ چالیس ہزار قدسی صفات کے حامل اصحاب کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی صورت حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے منظر سے لطف اندوز ہو کر تشکر و ممنونیت کے جذبات سے سرشار تھے۔ارشاد ہو رہا تھا۔ لوگو! آج کے اجتماع حج کے بعد ہم کہیں اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔ افعال و مناسک حج مجھ سے سیکھ لو؟ تمام انسان ایک ہی مرد و عورت کی اولاد ہیں عزت و تکریم والا وہ ہے جو متقی اور پرہیز گار ہے یہ ہی انسانوں کی تقسیم کے علے الرغم فضلیت کا حقیقی معیاد ہے۔ ”تمہارے خون، مال اور آبرو ایک دوسرے پر قطعاً حرام ہیں اور حرمت ایسی ہے جیسا یہ شہر (بلاد الحرام مکہ) یہ مہینہ ذی الحج اور یہ دن یوم نعر حرمت رکھتا ہے میرے بعد لوگو گمراہ نہ ہو جانا آپس میں کشت و خون کرنے لگو۔ فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اپنے غلاموں کو وہی کھلاو¿ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناو¿ جو خود پہنتے ہو، کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے زبردستی کچھ لے۔ تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں، ان سے بہتر سلوک کرو۔ لوگو میں تمہارے درمیان خدا کی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں جس پر قائم رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ دینی معاملات میں غلو سے بچنا۔ لوگو پانچ وقت کی نماز ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو مالوں کی خوش دلی سے زکوٰة دو، حج کرو اور اہل امرا کی اطاعت کرو! یاد رکھو دین مکمل ہو گیا اتمام نعمت ہو گئی اور سلسلہ نبوت اختتام پذیر ہو گیا میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ آخری امت ہیں تمہارے بعد کوئی امت نہیں ایک بار پھر فرمایا کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
بمصطفےٰ برساں خویش را دین ہمہ است     اگر بہ اونہ رسیدی تمام بو لہبی است
(پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی)