ہائر ایجوکیشن کمشن میں گریجویٹس کی تضحیک

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! گزارش ہے کہ پچھلے دنوں بدقسمتی سے ڈگری ویریفکیشن کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن لاہور آفس جانا ہوا اور یہ دیکھ کر دل پسیج گیا کہ یہاں آنے والے گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس سائلین کی قابلیت سے قطع نظر گورنمنٹ دفاتر کے مخصوص تضحیک آمیز رویے کو یہاں بھی مروج کیا گیا ہے۔ چند دن پہلے تک انٹری ٹوکن کے حصول کے لئے نوجوان ’پہلے آئیں پہلے پائیں‘ کی بنیاد پر صبح 5 بجے ہی آنے لگتے تھے تاکہ دفتر کھلنے پر اندر داخل ہو سکیں جبکہ اب اس اصول کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ گویا کہ انہیں انٹری ٹوکن لینے کے لئے آپس میں گتھم گتھا ہونے پر اکسایا جا رہا ہے اور یہ منظر کسی دربار سے لنگر لینے والوں کے ہجوم سے کچھ مختلف نہیں ہو گا۔ مزید براں دفتر کے اندر سائلین کے کاغذات جمع کرنے جیسے معمولی کام میں بلاجواز تاخیر سے نوجوانوں کو 5 سے 7 گھنٹے تک جاتے ہیں۔ اگر اس ادارے کا کوئی پرسان حال ہے تو براہ کرم نظام کو کچھ بہتر بنائیں اور اپنی زندہ ضمیری کا ثبوت دیں۔ (علی سلیم بٹ ڈاکٹر آف فارمیسی (پنجاب یونیورسٹی) شناختی کارڈ نمبر 35201-0253016-9، مکان نمبر 5D، گلی نمبر 29، سحر روڈ، باغبانپورہ لاہور)