’’نفرت کس بلا کا نام ہے صاحب؟؟؟‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’نفرت کس بلا کا نام ہے صاحب؟؟؟‘‘

مکرمی! سنا تھا جہاں محبت ہو وہاں نفرتوں کا وجود نہیں ہوتا۔ کیونکہ محبت اور نفرت دو حدوں کے نام ہیں۔ اگر ایک موجود ہو تو دوسرے کا وجود ممکن نہیں۔ اور اگر محبت رسولؐ کی بات کی جائے تو یہ صرف محبت ہی نہیں بلکہ پاکیزگی اور رفعتوں کا وہ احساس ہے جو نفرتوں کو ہمارے وجود سے ہی نکال باہر کرتا ہے اور ہم انکے پاکیزہ تصورات سے قلوب کو دن رات منور کرتے رہتے ہیں۔مگر نہایت افسوس کے ساتھ ہمیں آج یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ہم منافقت کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ عشق کا دعویٰ تو ہم ضرور کرتے ہیں مگر اس کا عملی مظاہرہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر کوئی اللہ سبحان و تعالی اور نبیؐ کریم کے پیغام کو سمجھ گیا تو وہ آپ سے یہ سوال ضرور کرے گا کہ یہ نفرت کس بلا کا نام ہے صاحب؟؟؟(سلیم رحیم اعوان)