’’بلدیاتی نظام‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’بلدیاتی نظام‘‘

مکرمی! وطن عزیز پاکستان میں جب بھی پاکستان آرمی برسر اقتدار آئی یا یوں کہنا چاہئے کہ ملک میں جب بھی فوجی حکومت ہو۔ بلدیاتی نظام بنا اور چلادیا جاتا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام بنایا اور چلایا تھا۔صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں بھی بلدیاتی نظام پھر سے بنایا اور چلایا گیا تھا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اسی نظام میں اہم تبدیلیاں کرکے اسے کامیابی سے چلایا۔ ہر بار اس کے اثرات نچلی سطح پر محسوس کیے گئے۔ایوب خان کا نظام پیپلزپارٹی کے رہنما اور ملک کے پہلے عوامی وزیراعظم‘ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کردیا۔ صدر اور آرمی چیف ضیاء الحق کا بنایا اور چلایا نظام ان کی طیارے میں ناگہانی وفات کے بعد ان کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ جنرل پرویز مشرف کا بنایا اور نہایت مفید نظام،،میثاق جمہوریت‘‘ والوں کی جمہوریت کھا گئی۔ اس نظام کے تحت 2008ء میں بلدیاتی الیکشن ہونا تھے جواب تک نہیں ہوسکے ہیں۔ کیوں؟ اب عدالت عظمیٰ نے ایک بار پھر بلدیاتی اتخابات کے انعقاد کی تاریخ دی ہے کہ 15نومبر کو لازماً پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرائے جائیں اس حکم پر ’’جمہوریت کے علمبردار‘‘ حقیقتاً پریشان ہیں۔(رضیہ سلطانہ)