خواتین ’’گداگر‘‘ بھی ہوں تو انکی حرمت قائم رہے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
خواتین ’’گداگر‘‘ بھی ہوں تو انکی حرمت قائم رہے

مکرمی !خادم پنجاب میاں محمد شہباز شریف کئی سالوں سے اپنی تقریروں میں تواتر سے خلیفہ دوم امیرالمومینین حضرت عمرؓ کی صلاحیتوں کا ذکر کررہے ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کے کسی ایک عمل کو بھی’’ با عمل‘‘ نہیں کر رہے۔ اور یہ ہمارا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم من’’ حیث القوم‘‘ تمام اکابرین کا ذکر تو کرتے ہیں مگر عمل کر نے کے لئے تیار نہیں۔ چند روز ہوئے کچہری چوک لوئر مال لاہور پر یہ عجیب منظر دیکھا کہ چند مرد سرکاری اہل کار’’ گداگر خواتین‘‘ کو زبردستی اٹھاکر ’’ اینٹی ا ینکروچمینٹ کے ٹرکوں میں حیوانوں کی طرح پھینک رہے تھے۔ ان کی دھوپ میں آہ پکار ہر آنے جانے والے کو رکنے پر مجبور کررہی تھی۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ DCOصاحب نے حکم دیا ہے کہ گداگر خواتین کو پکڑاجائے۔ لیکن پکڑنے کے بعد انکو کہاں لے جانا مقصود ہے واضح پتہ نہ تھا۔ تشویشناک امریہ ہے کہ خواتین کو پکڑنے کے لئے سرکاری طور پر مقرر کردہ پولیس کے خواتین سکواڈ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں کیا وہ وقت آئے گا جب قائداعظم کے فرمان کے مطابق ریاست حقیقی معنوں میں اسلامی، جمہوری اور فلاحی بن پائے گی۔(پروفیسر محمد مظہر عالم،زبیدہ پارک لاہور)