بجلی کے نئے میٹرز تیز چلتے ہیں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
بجلی کے نئے میٹرز تیز چلتے ہیں

مکرمی!پرائم منسٹر کے جاری کردہ انسپکشن کمیشن کے مطابق ڈسٹری بیوشن کمپنیز نے جو نئے میٹر لگائے ہیں، ان کی رفتار پہلے میٹرز سے 30 تا 35 فیصد زیادہ ہے اور انکی رفتار میں اونچ نیچ بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کچھ عرصہ استعمال کے بعد نئے میٹرز ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انکی رفتار یا تو بڑھ جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے۔ کمیشن نے ان معاملات کو دیکھتے ہوئے ان کمپنیز کے چیف سے 9 سوالات کے جواب مانگے ہیںکہ پچھلے دو تین سالوں میں نئے میٹرز لگانے پر کتنا خرچہ ہوا، کن کمپنیز نے یہ ناقص میٹر سپلائی کئے، کس نے انکے ناکارہ ہونے کی اطلاع دی، کس نے ان کو لگوانے کا فیصلہ کیا، کتنا بجٹ اس کیلئے رکھا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ پچھلے دو سال میں لاہور الیکٹرک کمپنی نے تقریبا 20لاکھ میٹر تبدیل کئے ہیں اور ایک ریکارڈ کی روشنی میں اس سال اگست کی آمدنی جولائی کے مقابلہ میں 5 ارب روپئے زیادہ تھی۔ واہ عوام کو لوٹنے کا کیسا شاندار اہتمام کیا گیا ہے۔ کمشن سے توقع کی گئی ہے کہ وہ باقاعدہ انکوائری کے بعد 35 فیصد رقم عوام کو واپس دلوائے گا۔ لاہور کی سچی کہانی کے پیش نظر اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ کراچی الیکٹرک بھی کراچی کے کروڑوں عوام کو نئے میٹروں کے ذریعہ لوٹ رہی ہے۔ انکے پاس تو اور بھی عنوانات ہیں۔ variable charges  لکھا جانے لگا تاکہ اس میں جو اول فول چاہو ڈال دو تاکہ کورٹ میں بھی چیلنج نہ کیا جا سکے۔ اسکے علاوہ electricity duty کا خانہ بھی کھول رکھا ہے۔ جنرل سیلز ٹکس بھی کاٹا جاتا ہے، خدا جانے یہ رقم متعلقہ محکمہ کو جاتی بھی ہے یا نہیں۔ fuel surcharge adj. کا خانہ بھی ہے ہے، ایک عام شخص کیا جانے کہ اس میں کیا کچھ کاٹا جاتا ہے۔ کراچی الیکٹرک سٹی کا بل آتا ہے تو بل ادا کرنے والے کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور پھر 15 روز قبل جاری کردہ بل ادائیگی کی آخری تاریخ سے صرف دو تین دن پہلے پہنچتا ہے۔ اللہ کرے ہماری سرکار کو عوام کی تکالیف کا ازالہ کرنے کا خیال آ جائے۔ (ظفرالحسن زبیری…کراچی)