ظالم یا مظلوم

مکرمی! شیخ سعدیؒ کا قول ہے ’’جو کمزوروں پر ظلم کرتا ہے اسے طاقتوروں کے مظالم برداشت کرنا پڑیں گے‘‘
زخمی‘ بھوکے پیاسے‘ تھکے ہوئے گھوڑوں‘ گدھوں کو ہر دو کرے قدم پر ڈنڈے برسا کر؟
انہیں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی رفتار سے دوڑانے اور پھر سگنل پر اچانک ’’بریک لگا کر‘‘ روکنے کی اذیت دیکر؟
ایک احتجاجی مظاہرے میں گدھے اور کتے کو بھارت کا روپ دینے اور جوتے مار مار کر ادھ موا کرکے؟
مرغابیوں کی ٹانگیں توڑ کر کہ وہ اڑ نہ سکیں۔
مچھلیوں کو شکار کرتے وقت پانی میں بجلی کا کرنٹ ڈال کر؟
یا پھر ایسی مہیب آواز پیدا کرکے جس کے صدمے سے مچھلیاں از خود جائیں؟
نایاب اور خوبصورت جانوروں کی ’’قربانی‘‘ کا ’’تماشہ‘‘ دکھانے کے لئے صرف اہل محلہ ہی نہیں بلکہ دوسرے محلے داروں کو بھی اکٹھا کرکے؟
اور پھر ’’قربانی‘‘ کے ہر مرحلے پر تالیاں بجا بجا کر ’’خوشی‘‘ کا اظہار کرکے؟
ملازم بچوں کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر قتل کر دینا پیٹ پیٹ کر؟ اپنی سلامتی اور عافیت کے لئے جب ہم دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو پہلے سوچیں کہ کیا ہم نے ان باتوں کو ’’ظلم‘‘ تصور کیا؟ کیا ہم نے کبھی کسی ظلم کو روکنے کی کوشش کی؟ اگر ہم ان ظالموں کے ظلم میں بالواسطہ نہیں تو بلاواسطہ ضرور شریک ٹھہرائے جائیں گے۔ ہم کس منہ سے اپنے کو ’’مظلوم‘‘ کہیں؟
(آمنہ وحید‘ جوہر ٹائون لاہور)