سوات میں امن کے حوالے سے صوفی محمد کو ہلال قائداعظم دیا جائے

کرمی! ایک ایسے علاقے میں جہاں چالیس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود امن قائم نہیں کیا جا سکا ان حالات میں ایک ایسے شخص نے صرف چند دنوں میں بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے وادی سوات میں نہ صرف امن قائم کر دیا بلکہ وادی کی ساری رونقیں بحال کر دیں اگر یہی کام کوئی انگریز کرتا تو نوبل انعام کا حق دار ٹھہرتا دنیا سے تو ہمیں اس کی توقع نہیں ہے لیکن پاکستانی حکمرانوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایسا عظیم شخص ہلال قائداعظم کا مستحق نہیں ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں صوفی محمد نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے پلیٹ فارم پر عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ جس سے نہ صرف سوات میں امن قائم ہو گیا بلکہ پورے ملک میں خود کش حملوں کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو صوفی محمد نے تحریک طالبان کو جن چند شرائط پر ہتھیار پھینکنے، علاقے میں اپنی تمام چیک پوسٹیں ختم کرنے، فوج اور انتظامیہ کے خلاف حملوں کو روکنے، تمام تعلیمی اداروں سمیت کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کرنے پر آمادہ کر لیا ہے ۔
پاکستانی حکمرانوں سے میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اس معاہدے کو سوات میں ہی کیوں برقرار رکھا جائے بلکہ اس کا دائرہ کار باجوڑ سمیت تمام قبائلی علاقوں تک پھیلا کر پور ے ملک کو خود کش دھماکوں سے نجات دلائی جائے۔ امریکہ کو خوش کرنے کی ضد اور خیرات مانگنی چھوڑ دیں خدارا اپنے ملک اور اپنے ہم وطنوں پر رحم کھائو فوج، پولیس اور فرنٹیر کانسٹبلری میں بھی ہمارے ہی بھائی ملکی دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں ان کو بھی امریکی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائو او سوات، باجوڑ سمیت تمام قبائلی علاقوں میں مقامی لوگوں کا من پسند اسلامی نظام نافذ کر کے وہاں زندگی کی سہولتیں فراہم کرو تاکہ جو لوگ پاک فوج کے ہاتھوں یا امریکہ کے ہاتھوں اپنے بچے اور گھر بار تباہ کروا چکے ہیں ان کو بھی قومی دھارے میں لا کر اس ملک کو بچایا جا سکے۔
(محمد اسلم لودھی، بک رائٹر کالم نگار، لاہور)