امریکہ والو! کیا امن نہیں چاہتے ہو

مکرمی! پچھلے دنوں مالاکنڈ اور سوات میں تحریک نفاذ شریعت محمدی اور حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تو امریکہ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدہ سے عسکریت پسندوں کو پناہ ملے گی۔ امن معاہدہ منفی پیش رفت ہے۔ فوجی کارروائی کی جائے۔ ادھر انڈیا کے پیٹ میں بھی مروڑ اٹھا۔ مکھرجی نے پاکستان کے طالبان کو سب سے بڑا دہشت گرد اور عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔ اگر طالبان ہی دہشت گرد اور امن دشمن ہیں تو کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے کون ہیں؟
افغانستان اور عراق میں عام شہریوں پر بم برسانے والوں کو کس فہرست میں شامل کیا جائے؟ مظلوم فلسطینی بچوں کو ٹینکوں کے نیچے روندنے والے کون ہیں؟ کیا کشمیر میں امن و امان کو تہہ بالا کرنے والے امن پیامبر ہیں؟ اب ایران کو مہلک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر دھمکیاں دینے والے کہاں کے داعی ہیں؟ کیا مسلمان ہی اور ہر مسلمانوں کی جماعت ہی دہشت گرد ہے؟ کیا مسلمان ہی دنیا کا امن تباہ کر رہے ہیں؟ احمد آباد میں مسلمانوں کو زندہ جلانے والے دہشت گرد نہیں ہیں؟ ڈیزی کٹر بموں کی بارش کرنے والے دہشت گرد نہیں ہیں؟ اگر مسلمان اپنے دفاع کی بات کرے تو دہشت گرد ہے۔ انتہا پسند ہے۔ مسٹر اوباما اب آپ امریکہ کی پالیسیاں تبدیل کرو۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہو۔ اگر آپ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ہر مسلمان طالبان بن جائے گا۔ پھر کیا ہوگا یہ مسلمانوں کی تاریخ پڑھ کر اندازہ کر لیں۔
(شکیل احمد کوآرڈینیٹر پاکستان تحریک انصاف ضلع قصور 0313-4633659)