قائد کے پاکستان کےلئے کچھ نہ کیا

مکرمی! پاکستان کامعرض وجود میں آنا ایک ایسا کانامہ ہے جو قائداعظم نے تن تنہا سر انجام دیا۔ قائداعظم پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جو دور جدید میں اسلامی فکر کی نمونہ کی ریاست ہو۔ جو جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہو جہاں جمہوریت اور رواداری ہواس میں کسی انسان کی عزت نفس مجروح نہ ہو نہ ملا ازم کی علمبردار ہو اور نہ ہی جدید دور کی مادہ پرست اور لا دین ہو۔ لیکن افسوس کہ قائداعظم کو اپنے افکار کو عملی جامہ پہنانے کا وقت نہ ملا اور ان کی وفات کے ساتھ یہ تمام کام ادھورے رہ گئے۔ بعد میں آنے والوں نے ان کے افکار کو پس پشت ڈال دیا اور ملک معاشی و معاشرتی عدل حق و انصاف مساوات اور اخوت کے عظیم جزبات و احساسات سے دور ہوتا گیا۔ ہم نے حقیقی معنوں میں اپنے قومی اور ملی کردار کی تعمیر نہیں کی۔ پاکستان جن مقاصد کی تکمیل کی خاطر حاصل کیا گیا تھا وہ پورے نہ ہو سکے اور شروع دن سے ہی لوٹ مار کے رجحان کا شکار ہو گیا اور اب اس کی جڑیں اس حد تک گہری ہو گئیں ہیں کہ اب اس میں بہتری آنا بہت مشکل ہے حکمران طبقوں کو آسانی سے ملنے والی دولت کی اتنی لت پڑ گئی ہے کہ وہ تعمیر کے صبر آزما اور مشکل راستے کی طرف دیکھ نہیں سکتے۔
(رانا زاہد اقبال فیصل آباد0323-9668220 )