زبانوں سے کلمہ خیر ہی نکالیں

مکرمی! ایک بار چند سوداگراونٹوں پر شکر لادے جا رہے تھے۔اتفاق سے حضرت فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ علیہ بھی وہاں موجود تھے۔آپ نے شکر کے سوداگروں سے دریافت کیا:”ان اونٹوں پر کیا ہے“؟سوداگروںنے سادہ لباس میں ملبوس بابا فریدؒ کو کوئی ضرورت مند انسان سمجھااس لئے ازراہ مذاق کہا:”یہ نمک کی بوریاں ہیں،تمہیں کیا چاہئے؟“حضرت با با فرید نے سوداگروں کی اس طنزیہ گفتگو کا کوئی تاثرقبول نہیں کیا اور نہایت خوش دلی کے ساتھ فر مایا:”تم کہتے ہو تو پھر نمک ہی ہوگا“شکر کے سوداگر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور حضرت فرید الدینؒ خانقاہ واپس تشریف لے آئے۔جب وہ سوداگر اپنی شکر فروخت کر نے کے لئے بازار پہنچے اور بوریاں کھولی گئیںتو سب کے سب حیرت کے مارے ششدر رہ گئے کہ بوریوں میں شکر کی بجائے نمک بھرا ہوا تھا۔موقع پر موجود تما م خریدار ان سوداگروں کو بُرا بھلا کہنے لگے :”شکر کہہ کے نمک بیچتے ہو؟کیا فریب اور کیسا اندھیر ہے؟“خریداروں کے بُرا بھلا کہنے پر سوداگر بازار میں تما شا بن کے رہ گئے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر کیونکر شکر نمک میں تبدیل ہو گئی؟بالآخر طویل غور و فکر کے بعد ایک سوداگرکو راستے کا واقعہ یاد آگیا:”یقینا وہ کوئی نیک انسان تھاجس کے ساتھ ہم نے شرارت کی تھی“ایک سوداگر نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اسی کی بد دعا سے ہماری ساری شکر نمک کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔اس خیال کے آتے ہی تما م سوداگر واپس لوٹے اور حضرت فرید الدین گنج شکر ؒکی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اورعرض کیا:”ہمیں معا ف کر دیجئے“فرید الدین گنج شکرؒ جو اس سارے واقعے کو بھول چکے تھے اسی لئے اجنبی لوگوں کی معافی مانگنے پر حیرانگی سے پوچھا:”تم لوگوں نے کیا کیا ہے جس کی معافی طلب کر رہے ہو؟“۔”آپ کی بد دعا سے ہماری شکر کا سارا ذخیرہ نمک میں تبدیل ہوگیا“سوداگروں بے بیک زبان عرض کیا۔آپؒنے فر مایا:”مسلمان کسی کو بد دعا نہیں دیتا“تم نے اپنے بھائی سے مذاق کیا تھا سو اللہ نے تمہیں اس کی سزا دی ۔ہمیشہ اپنی زبان سے کلمہ خیر ادا کیا کرو۔کوئی نہیں جانتا کہ کب قبولیت کی ساعت ہواور ہماری زبان سے نکلے الفاظ پورے ہو جائیں۔شکر کے سوداگر اپنی اس حرکت پر سخت شر مندہ تھے ۔آخر آپ ؒنے انہیں معاف کر دیااور فر مایا:جاﺅ!دوبارہ اپنے اسبا ب تجارت کو دیکھو،اللہ فضل کرے گا۔سوداگر جب بازار واپس پہنچیںاور ڈرتے ہوئے بوریوں کے منہ کھولے تو حیرت زدہ رہ گئے کہ تما م بوریاں شکر سے بھری پڑی تھیں۔ ہمیں اس واقعے سے جہاں اللہ کے نیک بندوں کی اہمیت اور بزرگی کا علم ہوتا ہے وہاں بہت سی چیزیں بھی معلوم ہوتی ہیں کہ کبھی کسی کے ساتھ ازراہ مذاق بھی جھوٹ نہ بو لا جائے۔
(حافظ ذوہیب طیب)