حسینیت، حریت،کوفیت ، یزیدیت اور کربلا

کربلا‘حق و باطل کے خونین معرکے کا ایک المناک نقشہ ، راکب ِ روش مصطفی کی شہادت پر آنسوﺅں کا ایک عظیم سمندر، رشد و ہدایت اور فسق و فجور کی جنگ کا ایک المناک خاکہ ۔۔ کربلا صرف ایک داستان نہیں بلکہ جب زمین پر معرکہ کربلا بپا ہوا اس وقت سے بعد جب بھی تاریخ میں ظلم و جبر کی داستانوں کو خط تحریر میں لایا گیا تو اسے کربلا سے تعبیر کیا گیا ، اور قیامت تک جب جب یزیدی فکر پر مبنی نظام قائم ہوگا تو حسینی کردار کے حامل لوگ کربلا بپا کریں گے ۔ کربلا کے چارکردار ہیں ، ایک کردار یزیدیت ہے ، یزیدیت نام ہے جبر کا ، ظلم کا ، نافرمانی کا ، جہالت کا ، ناانصافی کا ، بے حیائی کا، فحاشی و عریانی کا، غاصبوں کا، دین دشمن قوتوں کا ، تشدد کا ، دہشت گردی کا، انتہاپسندی کا ، غلامی کا ، یزیدیت ایک ایسا گھناﺅنا کردار ہے ۔یزید ایک طبقے کا نام ہے اور یہ طبقہ ہر دور میں جبر کی علامت رہا ہے ۔ یزیدیت حرمت و اقدار دین کی پامالی کا نام ہے ، اسلامی قوانین سے انحراف کا نام ہے ، حرام کو حلا ل اور حلال کو حرام کہنے کا نام ہے ۔ یزیدیت عمل میں بھی ہے کردار میں بھی ہے سوچ میں بھی ہے اور روح میں بھی ہے یہ ایک جراثیم ہے جو ضمیر کو مردہ کرکے انسان کو انسانیت کے مقام سے نآشنا کرتا ہے اور وحشی بنادیتا ہے ۔ دوسرا کردار کوفیت ہے ، کوفیت دراصل جرم خاموشی ہے ، کسی کا کہنا ہے کہ ” دنیا برباد ہوتی جارہی ہے برے لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے “ ۔ ظلم کیخلاف خاموش رہنا بھی جرم ہے یہی کردار کوفیت ہے ۔ امام زین العابدین ؓ نے فرمایا تھا کہ ”مجھے اتنی تکلیف کربلا میں نہیں ہوئی جتنی کوفہ والوں کے خاموش رہنے سے ہوئی “۔ کوفیت نام ہے نعرے مظلوم کے لگانے اور حکمرانی ظالم کو دینے کا، یزیدیت کو تحفظ دینے والے ظالمانہ نظام کو بچانے کا، مظلوم کو بے بس سمجھ کر ظالم کی قوت بننے کا ، لوگوں سے ہمدردیاں حسینیت کے نام سے سمیٹنے اور ووٹ یزیدیت کو دینے کا ، کوفیت جرم ہے اور ظالم کی خاموش تائید کا نام ہے ۔ یہ ایک زہر ہے جو انسان کو لاپروا بنا دیتا ہے اور پھر وہ سوسائٹی درندوں کی سوسائٹی بن جاتی ہے۔
(رضی طاہر )