ارکان اسمبلی کی عدم توجہ کا شکار ”لاگر“.... مسائل کی آماجگاہ

مکرمی! ”لاگر“ شیخوپورہ کے اہم ترین دیہات اور قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر سلطان بشیر الدین محمود اور جسٹس (ر) چودھری خورشید احمد مرحوم کا آبائی گا¶ں ہے لیکن قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل مسائل کا شکار اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اگر ننکانہ ضلع نہ بنتا تو شاید مانانوالہ سچا سودا روڈ نہ بننے سے ”لاگر“ مزید پسماندہ رہتا۔ لیکن اس کا کریڈٹ صرف ننکانہ کے بریگیڈئر (ر) سید اعجاز احمد شاہ کو جاتا ہے۔ مقامی ایم این اے، ایم پی اے (دونوں کا تعلق (ن) لیگ سے ہے) نے پانچ سال میں کبھی پلٹ کر ”لاگر“ کو نہیں دیکھا۔ ایم این اے تو پہلے پانچ سال بھی (ق) لیگ کے پلیٹ فارم پر رہے۔ لیکن پہلی اور دوسری مدت میں 10 سال کے دوران شاید 5 مرتبہ بھی ”لاگر“ نہ آئے ہوں لیکن سب سے زیادہ افسوس یونین ناظم و نائب ناظمین پر ہے جنہوں نے آٹھ سال میں 8 آٹھ دنوں کے برابر بھی ترقیاتی کام نہیں کرائے۔ یونین کونسل کی عمارت کی کھڑکیاں، دروازے اکھاڑ لئے گئے، اینٹیں تک اٹھا لی گئیں۔ کوئی کرسی میز اور پنکھا بھی نہیں چھوڑا۔ ”لاگر“ آج بھی سوئی گیس سے محروم ہے۔ گرلز مڈل سکول لاگر میں بجلی نہیں، بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر ہے نہ ادویات ہیں۔ بچیوں کیلئے کوئی دستکاری سکول نہیں۔ لہٰذا عوامی خدمت کی دعویدار صوبائی اور وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ ”لاگر“ کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی جائے۔
(شاہ نواز تارڑ ........ لاگر، شیخوپورہ 0300-8859572)