’’اشفاق نیازسیالکوٹ‘‘ یاد رفتگان… ’’ محمد انور علی خاں (مرحوم)‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’اشفاق نیازسیالکوٹ‘‘ یاد رفتگان… ’’ محمد انور علی خاں (مرحوم)‘‘

شہر اقبال کے معروف سماجی کارکن، متعدد فلاحی تنظیموں کے روح رواں، سیالکوٹ ریلوے ایڈوائزری کونسل کے صدر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما محمد انور علی خاں نے کانونٹ سکول، مسلم ہائی سکول، اور مرے کالج سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کی والدہ محترمہ ارشاد بیگم انتہائی نیک خاتون تھیں۔ آپ دوبھائی اور چھ بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ یہاں یہ بات تاریخی اہمیت سے کم نہیں کہ کپور تھلہ فیملی کا تعلق ریاست کپورتھلہ (انڈیا) کی معزز فیملیز میں ہوتا ہے۔ 1994 ء میں آپ نے اپنے والد محترم کے نام سے منصوب سردار علی خاں پبلک سکول کا آغاز کیا۔ 16 سال تک اپنے سکول میں غریب اور مستحق بچوں کو تعلیم دی۔ آپ نے 1984 ء میں سیالکوٹ ریلوے ایڈوائزری کونسل کے پلیٹ فارم سے سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اس کی بہتری کا بیڑا اُٹھایا اور اپنے دوست احباب کے تعاون سے متعدد کام کروائے جن کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آپ نے ریلوے کے لئے تقریباً 29 سال بے لوث خدمات انجام دیں۔ محمد انور علی خاں مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ انسان اُس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اُس کا ضمیر زندہ رہتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کا خاندان 1906 ء سے سیاست میں چلا آرہا ہے آپ نے 1980 ء میں باقاعدہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ آپ کی شاندار اور بے لوث خدمات کے عوض آپ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سٹی نائب صدر مقرر کیا گیا۔ آپ کا مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف سمیت دیگر راہنمائوں سے مسلسل خط و کتابت میں رابط رہتا تھا۔ اور آپ انہیں ملکی مسائل کے حل کے لئے اپنی تجاویز بھی پیش کرتے تھے۔ مسلم لیگ کے اعلیٰ قیادت کو اُن کی بے لوث خدمات کا اعتراف کرنا چاہئے جوکہ اُن کا حق بنتا ہے۔ محمد انور علی خاں کی خواہش تھی کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی فلاحی مملکت بن جائے۔ آپ کے تین بیٹے محمد بلال خاں، محمد کمال خاں اور محمد عثمان خاں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ محمد انور علی خاں ایک عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ 3 جولائی 2012 ء بروز منگل انہیں سینے میں شدید درد محسوس ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا مرحوم کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں قبرستان بابا کوپٹ کمشنر روڈ سیالکوٹ میں سپرد خاک کیا گیا۔