کیا یہ ہماری جنگ ہے؟

مکرمی! امریکہ افغان جنگ سے جان چھڑا رہا ہے جبکہ ایوان صدر اور ملکی سیکورٹی اداروں میں موجود چند کالی بھیڑیں مشرف کے نقش قدم پر امریکی وفاداری میں ڈالر کمانے اور حب الوطنی کے نام پر معصوم عوام اور سپاہیوں کی جانیں گنوانے کے لئے امریکی جنگ کو ہماری جنگ قرار دے کر جاری رکھنے پر بضد ہیں۔ اس جنگ میں مارے جانے والے 32 ہزار پاکستانیوں کا قاتل مشرف آج امریکہ کی گود میں بیٹھا ہے۔ ذرداری صاحب بھی مولوی نواز شریف کو افغانستان سے اٹھنے والی اسلام کی لہر سے خوف زدہ کر رہے ہیں کہ طالبان آ گئے تو نہ ہم رہیں گے اور نہ وہ۔ یہ اس قوم کی کم نصیبی ہے کہ جس نظام کفر کے خلاف لڑ کر ہمارے بڑوں نے 63 سال قبل جو جنگ جیتی تھی، آج اس قوم کا سپہ سالار اسی نظام کفر کے دفاع کی جنگ کو ہماری جنگ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔ امریکہ کی کامیابی کار از بھی مسلم ممالک میں جمہوریت کا نفاذ ہے اور مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ سے اسلامی نظام سے بیزاری ہے۔ اگر ہم امریکہ سے نجات چاہتے ہیں تو اس ملک سے فرنگی نظام جمہوریت کے پودے کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ امریکہ کی جان اسی جمہوری پودے میں ہے جسے افغانوں نے اپنی سر زمین پر لگنے نہیں دیا، کیونکہ اسی جمہوری پودے پر مفادات کا پھل لگ سکتا ہے، احتساب کا نہیں۔ ہمارے تمام ادارے اسی نظام کے تحت چل رہے ہیں اور ہمارے حکمران امریکی ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔کچھ جدت پسند اس ملک سے اس کی روح اسلام کو جدا کرنا چاہتے ہیں ، اس لئے پورا ملک تڑپ رہا ہے لیکن عوام ہیں کہ یورپی ترقی کی دجل فریبیوں سے متاثر ہو کر غلامی کے جوہڑ میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی آنکھیں ہی نہیں کھل رہی۔ سوچئے بار بار سوچئے کیا ہم اپنے پاﺅں پر کلہاڑی نہیں چلا رہے۔
(واجد ظہور، لاہور)