آخر کب تک

مکرمی! امریکہ نے ازخود ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ کر کے چند ہزار شہریوں کو ہلاک کر کے دہشت گردی کا ڈرامہ رچایا جس کے بدلے میں افغانستان، عراق اور پاکستان میں دس لاکھ شہریوں کو ہلاک کر کے دہشت گردی کا ڈرامہ رچایا جس کے بدلے میں افغانستان، عراق اور پاکستان میں دس لاکھ شہریوں کو ہلاک دس لاکھ شہریوں کو اپاہج اور دس لاکھ شہریوں کو دربدر کر دیا۔ مسلمانوں کے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ قبل ازیں ویت نام اور جاپان کے لاکھوں انسان کا خون چوس چکا ہے۔ اس آدم خور امریکی بھیڑیے کی پیاس ابھی نہیں بجھی۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ امن کا داعی بننے کا جھوٹا مدعی ہے اور جو لوگوں کو بلیک میل کرکے ظلم ڈھانے میں اپنا ساتھی بنائے ہوئے اور جو لوگ اس کے حمایتی ہیں وہ سب اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا۔ ”فرعون اور اس کے ساتھی سب ظالم تھے میں نے ان سب کو ڈبو دیا ہے اور آخرت میں بھی ان کا انجام دردناک ہے“ ہم نے اپنے مسلمان پڑوسی کی محفوظ سرحدوں کو دشمن کی سرحدوں میں از خود تبدیل کیا ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی حواریوں مسلمانوں کے ملکوں پر قبضہ کر کے ان کا سارا خزانہ لوٹ کر لے جا رہے ہیں۔ تیل کی دولت پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ بے غیرت اور ڈالروں کے پجاری افراد کو مسلمان پر مسلط کیا ہوا ہے اور ان مسلمان ملکوں کے شہریوں کو ان کے اپنے فوجیوں سے ہلاک کرایا جا رہا ہے اور ان مسلمان ملکوں کے شہریوں کو انکے اپنے فوجیوں سے ہلاک کرایا جا رہا ہے۔ دونوں طرف سے مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروایا جا رہا ہے۔ عراق اور افغانستان کی نہ تو امریکہ کے ساتھ سرحد ملتی ہے اور نہ ہی انہوں نے امریکہ کا قرضہ دینا ہے۔ امریکہ کا مسلمانوں کا قتل عام مسلمانوں کو تو نظر آتا ہے مگر اس کے جونسلاً غلام ہیں یا سیکولر (بے دین) ہیں وہ آنکھوں سے اندھے ہیں ان کو مسلمان ہی ظالم اور دہشتگرد نظر آتے ہیں۔
(عبدالرحمن، راولپنڈی)