وزیراعظم کی یوتھ بزنس سکیم

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! وزیراعظم نے جو غریب اور نادار نوجوانوں کیلئے قرضہ سکیم کا اعلان کیا ہے اس سے ملک کے بیروزگار نوجوانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بے روزگار نوجوانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ اگر حکومت کے پاس وسائل کی کمی کی وجہ سے نوکریاں نہیں ہیں تو کم از کم اس نے متبادل کے طور پر قرضہ سکیم کا اعلان کیا جس سے ہم قرضہ لے کر کاروبار شروع کریں گے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے لیکن جناب عالی قرضہ سکیم کا فارم نظر سے گزرا تو یہ خوشی غریب اور بیروزگار نوجوانوں کی دھرے کی دھری رہ گئی کہ اسی کی شرائط اتنی سخت اور ناقابل عمل ہیں کہ کم از کم غریب نوجوان تو قرض نہیں لے سکتا۔ ان شرائط میں سے تین کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، ایک تو قرضہ سود کے ساتھ ہے، دوسرا یہ کہ گارنٹی دینے والا اتنی بینک سٹیٹمنٹ بھی جمع کرائے گا، تیسرا یہ کہ بینک جب چاہے مارک اپ ختم کر کے اپنی شرح سے مارک اپ لگائے گا۔ جناب عالی اس طرح کی گارنٹی تو اپنا عزیز رشتہ دار بھی نہیں دے سکتا۔ اس ضمن میں وزیراعظم سے گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی نوجوان طبقے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو قرضہ سکیم کی شرائط میں کچھ نرمی کی جائے تاکہ آپ نے جن نوجوانوں کیلئے سکیم شروع کی وہ اس سے مستفید ہو سکیں، ورنہ پھر غریب اور بیروزگار نوجوان دیکھتے رہ جائیں گے امیر اور صاحبِ اثر لوگ فائدہ لے جائیں گے۔ (سید وقار حسین شاہ ۔ گجرات)