احتساب کی آواز

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! عوام کو احتساب کے نام سے چڑ ہونے لگی ہے۔ آمروں اور جمہوری ادوار کے احتساب کے بلند و بانگ دعوئوں کو سُن سُن کر عوام کے کان پک گئے مگر احتساب کسی کا نہ ہو سکا۔ الزام تراشیاں بے قاعدگیوں، ناانصافیوں، لوٹ مار کا طوفان لانا ہر دور حکومت کا وطیرہ رہا۔ احتساب کے کٹہرے میں لانے، لوٹی ہوئی قومی دولت، کرپشن میں ملوث افراد کا کچھ نہ بگڑ سکا۔ مشرف نے آتے ہیں سخت احتساب اور بلند بانگ دعوے کر کے قوم کو جو نوید سُنائی اس کے احتسابی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات اور سخت احتساب کے دعوے نورا کشتی ثابت ہوئے اور اربوں کی لوٹی ہوئی قومی دولت کو بیرون ملک سے نہ لایا جا سکا۔ پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور حکومت اپوزیشن فرینڈلی سے اختتام پذیر ہوا۔ مختلف حکومتوں کی اس حکمت عملی کو دیکھ کر ہر محب وطن یہی کہتا ہے کہ حکمرانوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، یہ تو چور مچائے شور والی بات ہے۔ (ریاض احمد شاہین ۔ لاہور روڈ پنڈی بھٹیاں)