چیف جسٹس پاکستان سے گزارش

مکرمی! سائل نے 1947ءکے سستے زمانے میں لاکھوں کی جائیداد اور زمینداری، 7 عدد بھٹہ، خست غرضیکہ اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین، نظریہ اور قیام پاکستان کی خاطر قربان کر کے اپنے دو گھریلو ملازمین کے ساتھ ہجرت کی اور ایک پائی کا کلیم نہ لیا۔ جوان، دیوانی اور رئیسی کی بو ابھی باقی تھی کاغذات کلیم پر دستخطوں سے انکار کرتے ہوئے کہا ”ہٹا“ پاکستان سے ہمیں کیا لینا پاکستان کو تو دینا ہے۔ میرے یہی الفاظ اللہ تعالیٰ کے ریکارڈ پر موجود ہیں تمام راستے مہاجرین کی خدمت اور کئی کام ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہ معزز عدالت اپنی تسلی کی خاطر کسی بھی سطح پر انکوائری کروا کر حقائق جان سکتی ہے۔ ”زبردست مارنے اور رونے بھی نہ دے“ کے مصداق اس دور میں اقربا پروری، دوستی، تعلقات اور کرپشن کے ذریعہ طاقتور کا حکم سنا اور سمجھا جاتا ہے۔ 1974ءمیں لاکھوں ٹن چینی کا غبن اپنی خداداد صلاحیت سے میں نے پکڑا جس کے بعد قوم کا حق اسے ملا تھا۔ اخبارات میں شائع ہونے والے برسوں کے اداریے میرے پاس محفوظ ہیں جن میں کالم نویس حضرات نے پورے درد دل اور دیانتداری کے ساتھ ناانصافیوں کا رونا رویا ہے۔ اب اس قوم نے متحد ہو کر حالات کا رخ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ سردار میر محمد ظفر اللہ خان جمالی جنہوں نے قیام پاکستان کے سلسلے میں ایک پائی کا نقصان نہیں اٹھایا نہ ہجرت کی نہ ہمیشہ مسلم لیگی ہی رہے مگر 1982ءمیں میرے ہی مشورے کی بدولت وفاقی محتسب اعلیٰ کے حکم سے اپنے اعلیٰ ترین اثرورسوخ کے سبب 84 میں 4 کنال کا پلاٹ اسلام میں لے لیا اور کئی دیگر مثالیں اخبارات کے ذریعے
میرے ریکارڈ پرموجود ہیں۔ وفاقی محتسب اعلیٰ کا ویسا ہی حکم اس خاکسار کے لئے بھی 2-8-99 کو جاری ہوا۔ مگر 12 سال گزرے اور 90 خطوط صدر محترم اور وزیراعظم پاکستان کو لکھے جانے کے باوجود پلاٹ تو درکنار کسی ایک خط کا جواب تک نہیں آیا۔ اخلاق، قانون، شرع سب کا سب غتر بود، آپ سے استدعا ہے کہ بے حد مصروفیات میں اگر ممکن ہو تو صرف چند منٹ میری درخواست پر اسی عجلت سے سائل کی زندگی میں ہی فیصلہ فرما دیجیئے۔ انسانی حقوق کے اداروں میں کوئی ہے جو میری آواز سنے۔
(ایم اے ذکی کارکن تحریک پاکستان مکان نمبر 2 بلاک 8 سوڈی وال کالونی لاہور)