ابھی ایک مسیحا ہے باقی

مکرمی! 10 اگست 2010ءکو جناب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف صاحب نے کیمپ جیل لاہور کا دورہ کیا۔ میری حوالات کے دورانیے میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا یہ دوسرا دورہ تھا۔ دورے کی خبر سنتے ہی تمام حوالاتیوں اور قیدیوں کے دل میں امید کی ایک کرن جاگی خاص طور پر وہ لوگ جو 382 ب کا فائدہ نہ ملنے پر یا ملنے کے باوجود بھی معافیوں سے محروم بیٹھے ہیں جبکہ معافی قیدی کا حق ہے، وہ حوالاتی جو چھوٹے چھوٹے مقدمات میں اپنی سزائیں کاٹ چکے ہیں اور وسائل کی کمی کے باعث التواءکا شکار ہیں، وہ لوگ جن کے گھر پانی میں بہہ چکے ہیں جو ملاقات کے انتظار میں اپنے شب و روز گزارتے ہیں، وہ حوالات جو 497 کی بحالی پر قائمہ کمیٹی کے کئے گئے فیصلے پر انحصار کئے ہوئے ہیں، وہ قیدی، حوالاتی جو جوڈیشل پالیسی 2009ءکے بعد اپنے اپنے گھروں میں دوبارہ چولہا جلانے کی ضمانت دیئے ہوئے ہیں، وہ لوگ جو چند دنوں کی معافی ملنے پر رہا ہو سکتے ہیں، وہ لوگ جو جرمانہ ادا نہ کرنے پر معمولی رقوم میں قید کاٹ رہیں ہیں۔ دوپہر کے وقت جناب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف صاحب تشریف تو لائے مگر بارکوں کا دورہ نہ ہو سکا۔ جہاں جہاں کا دورہ ہوا یا یوں کہہ لیجئے جس جگہ پر نظر کرم ہوئی اس کے بارے میں اگلے روز تمام اخبارات نے تفصیل شائع کی۔ مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آخر کیوں ان لوگوں کو نظر انداز کیا گیا جو میری طرح ڈھائی سال سے مقدمات کو سنبھالے بیٹھے ہیں جبکہ کیسز مدعیان کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں؟ آخر کیوں ایسے مقدمات میں جن پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی ڈائریکشن ہے اور ڈائریکشن ختم ہونے کے باوجود بھی ضمانت نہیں لی جاتی؟ آخر کیوں ہم جیسے کم تعلقات رکھنے والے شریف شہریوں کی سنوائی میں اتنی تاخیر ہے۔ آخر کیوں اس دورے میں حوالاتیوں اور قیدیوں سے ان کی مشکلات اور تکالیف نہ پوچھیں گئیں؟ جناب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد ایک اندازے کے مطابق جیلوں میں موجود تمام حوالاتی اور قیدی اس بات سے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ دو دن دیر سہی مگر انصاف ضرور ملے گا۔ مگر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکالیں خود تشریف لائیں اور ہماری فریاد سنیں، لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ سپریم کورٹ جناب کی خدمت میں حاضر ہو سکیں یا ہائی کورٹ بھی جا سکیں۔
(علی عمار بارک3B چکی 20 کیمپ جیل لاہور)