پاکستانی جمہوریت کے کیا کہئے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! الیکشن کے بعد جو بھی پرائم منسٹر بنتا ہے وہ اپنے گھر Security Measure کے طور دیوار وغیرہ بنواتا ہے جبکہ ملتانی گیلانی صاحب نے اپنے گھر کے اردگرد دیوانی بنوائی جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ اسلام آباد میں پرائم منسٹر ہاؤس جس پر سالانہ 13کروڑ خرچ ہوتے ہیں ہمارے ملک میں یہ ہماری ایسی ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ کیا امریکی یا انڈین صدر بھی اس طرح کرتے ہیں کہ بار بار اپنے گھروں کو چکر لگاتے ہیں گیلانی صاحب کے ملتان اور لاہور کے چکروں کا حساب لیں۔ ایک اور خاص بات جو ملک پاکستان میں ہو رہی ہے صوابدیدی فنڈ سے سیاسی لوگوں کو مراعات دی جاتی ہیں جیسا کہ راجہ رینٹل نے تھوڑے ہی عرصہ میں اربوں روپے لوگوں کو دیئے۔ اسی طرح ہماری جمہوریت کا ایک اور تحفہ جو خواص کو ملتا ہے قرضہ لو اور پھر معاف کرا لو یہ قرضہ لاکھوں نہیں کروڑوں اور اربوں میں ہوتا ہے۔ ایک اور درخشاں مثال ایک محکمہ میں وزیر، وزیر مملکت اور مشیر یہ اپنوں کو نوازنے اور ناکامی کی اچھی مثال ہے۔ قرضے واپس لئے جائیں الیکشن پارٹی لڑے تاکہ بندہ اپنے نام سے جس طرح امریکہ میں ہوتا ہے یہاں پر صدارتی طرز کی جمہوریت ہونی چاہیے تاکہ ایک مرتبہ تو ون یونٹ میں یہی پاکستان تھا جس میں ایک گورنر اور 10 وزیر ہوتے تھے۔ ( ایم اے واحد خان )