وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! وزیراعلیٰ پنجاب اپنی حکومت کی گڈگورننس اور کارکردگی کا والہانہ اظہار خوشی سے کریں لیکن انہیں باور کر لینا چاہیے کہ میٹرو منصوبہ کی شفافیت کی تصویر کشی میں گزشتہ چند ماہ بعد ہی ٹوٹ پھوٹ اور ناقص تعمیر کو بھی ایکسپوز کر لیا جائے بارش کا پانی تین چار دن تک سڑکوں پر کھڑا رہتا ہے اور فٹ پاتھ کے نیچے بنایا گیا نالا مکمل بند ہو چکا ہے جو تعمیرات کا حسن کارکردگی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ فلاحی قرضے صرف غریبوں کے نام پر لئے جاتے ہیں غریبوں کو نہیں ملتے اور قرضے دینا صرف دکھاوا تو ہو سکتا ہے غریب عوام کی اور حکومت وقت کی حاجت روائی نہیں ہے۔ قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ایسے منصوبے ہمیشہ قومی خزانہ کے بے دریغ ضیاع کا باعث بنے ہیں اگر حکومت غریب عوام اور پاکستان سے ذرا بھی مخلص ہوتی تو سب سے پہلا کام ’’قومی خودمختاری‘‘ کی بحالی تھا اور دوسرا کام عام آدمی کو ریلیف دینا تھا جس میں حکومت نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ دونوں مسائل میں اضافہ ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام نے شیر کو ووٹ اس اُمید پر دیا تھا کہ شیر اس جنگل کی رکھوالی کرے گا اور جنگل میں امن اور سکون قائم ہو گا اب تک کے حالات میں ملک اور عوام کی حالت مزید خراب ہوئی ہے یوں لگتا ہے کہ پہلے کی طرح اس بار بھی عوام کو ’’مایوسی‘‘ کا منہ دیکھنا پڑے گا۔(اقبال ندیم سیال ایڈووکیٹ لاہور)