وطن (رخشندہ حبیب جالب)

یہ وطن جوکہ حسیں تھا بے حد
حُکمرانوں کی رہیں چالیں بد
حُکمراں ایسے رہے گا کب تک
یُونہی یہ خُون بہے گا کب تک
قوم کا چہرہ پھر رہے گا زرد
یہ وطن جوکہ حسیں تھا بے حد
صدیوں تک کیا یہی منظر ہو گا
خون کا دریا گھر گھر ہو گا
کیوں یہ باطل پھر ہمیں دے گا درد
یہ وطن جوکہ حسیںتھا بے حد
حکمرانوں کی رہیں چالیں بد