غزل

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
غزل

محبتوں کا قتیل نکلا
جو دہشتوں کا وکیل نکلا
جو ایک بادل تھا چاہتوں کا
وہ بن کے مثلِ سبیل نکلا
وفا کی منزل نہ پاسکے ہم
سفر جنوں کا طویل نکلا
جو بم دھماکے سے مر گیا تھا
وہ سارے گھر کا کفیل نکلا
یہ دورِ وحشت عجیب سا ہے
کہ شہر سارا علیل نکلا
سمجھ میں آئی نہ محتسب کے
وہ لے کے اپنی دلیل نکلا
اُسی نے انصاف کردیا ہے
خدا ہی میرا عدیل نکلا
(محمد الیاس مغل ایڈووکیٹ)