کالا باغ ڈیم… حقیقت یا فسانہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
کالا باغ ڈیم… حقیقت یا فسانہ

مکرمی! ’’حیدرم قلندرم مستم‘‘ کے مصداق، صاحب مضمون ہذا نے 26 اقساط پرمحیط جس روزانہ جرات، دلسوزی اور لگن کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور جن سے نوائے وقت نے اپنے صفحات کو مزین کیا ہے وہ قابل تحسین اور حب الوطنی کے جذبات کا ایک اعلیٰ و ارفع نمونہ ہیں۔ یہ انداز مستانہ ایک غازی مرد اور ایک پراسرار بندہ ہی اختیار کر سکتا ہے صاحب مضمون نے کالا باغ ڈیم کے نہ صرف تاریک پہلوئو پر جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں نظر انداز نہیں کیا بلکہ انہوںنے ڈیم کے روشن پہلوئوں کو بھی پراثر اور ٹھوس انداز میں اجاگر کر کے ڈیم کی اہمیت، افادیت اور فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی افادیت لاکھ گنا بڑھ گئی ہے۔ علاوہ ازیں ڈیم کی غیر موجودگی کی وجہ سے پنجاب کے پانیوں کی سطح کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جسکو ری چارج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ (فاطمہ زہرہ، L-951 بلاک سبزہ زار، لاہور)