صفائی نصف ایمان ہے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
صفائی نصف ایمان ہے

مکرمی! صفائی کو نصف ایمان کہا جاتا ہے لیکن ہمارا معاشرتی رویہ اس کے برعکس ہے۔ ہم لوگ نہ صرف اپنی صفائی کا خیال نہیں رکھتے بلکہ دوسروں کی صفائی کا خیال بھی بھی نہیں رکھتے ۔ اپنے گھرصاف کردیتے ہیں مگر اپنے گھرکا سارا کوڑا کرکٹ پڑوسیوں کے گھر کے سامنے پھینک دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنے گلی محلے اور سڑکوں پر بھی کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز نہیں کرتے۔ ہمیں چاہئیں کہ ہم اپنے اس شہری اور دینی فریضے کو سمجھیں اور نہ صرف اپنی صفائی کا خیال رکھیں بلکہ اپنے گلی محلے شہر اور ملک کی صفائی کا بھی خیال رکھیں۔ (ثنا عالمگیر لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی)