بت پرستی کا دوسرا منظر خاندان پرستی ہے

مکرمی! بیرسٹر اعتزاز احسن سے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں سوال پوچھا گیا ہماری سیاست میں خاندان پرستی نظر آتی ہے ایسا کیوں ہے؟ بیرسٹر صاحب نے جواب میں انڈیا کی مثال پیش کی جواہر لال نہرو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے پھر اس کی بیٹی اندرا گاندھی اس منصب پر آئی اس کے بیٹے راجیو کو موقعہ دیا گیا اور اب بھی اقتدار کا مرکز راجیو کی بیوہ سونیا گاندھی نظر آرہی ہے۔ یہ اعتزاز احسن کی پہلی توجیح ہے جو آدمی کو متاثر کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔ انڈیا اور پاکستان میں بنیادی فرق یہ تھا کہ انڈیا کی اکثریت ہندو آبادی کے عقیدہ میں انسانوں کی پیدائش چار اقسام کی مٹی سے ہوئی۔ سب سے اعلیٰ قسم کی مٹی سے برہمن پیدا ہوئے ہیں اس سے ہلکی قسم سے کھشتری پیدا ہوئے اس کے بعد تیسرے درجے کی مٹی سے ویش بنائے گئے پھر اور گھٹیا مٹی سے شودر پیدا کئے گئے جبکہ اسلام کا نظریہ ہے کسی نسل کو دوسری نسل پر فوقیت حاصل نہیں یہ نظریہ رسول رحمتﷺ نے فتح مکہ کے بعد حج کے اپنے خطبہ میں دنیا کو پیش کیا اور تمام دنیا نے تسلیم کر لیا جس کی مثال امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں اس گوری قوم کا صدر ایک سیاہ فام بن گیا ہے مگر صدمے کی بات ہے کہ خود مسلمان عملاً اس امن کے چارٹر سے منحرف ہوتے نظر آرہے ہیں۔ آصف زرداری کو صرف اس لئے صدر بنایا گیا ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کا شوہر رہا ہے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو مسلمہ ذہین ترین شخص اور سیاسی طور پر بڑے قد کے آدمی تھے ان میں خوبیاں تھیں تو اپنے بڑے قد کے مطابق بڑے قد کی خامیاں بھی تھیں جو بڑے لوگوں میں ہوا کرتی ہیں مگر جناب آصف علی زرداری کو پاکستان کے 16 کروڑ عوام کی جان اور حقوق کی ذمہ داری سونپ دی گئی جو اپنی ایک بیوی کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈال نہ سکے۔ پاکستان اپنے ناسمجھ لوگوں کے ساتھ الجھا ہوا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ تمام ملک بددیانتی‘ جھوٹ اور اخلاقی گراوٹ کی دلدل میں جکڑا ہوا ہے جو ادارے اپنے اچھے کردار کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ تہذیب مغرب کے سفیر بنے ہوئے ہیں جو کلچر انگریز کے دور میں صرف ایک منڈی میں بند تھا اب الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے گھروں میں لایا جا رہا ہے قوم کے سنجیدہ لوگوں کا پروگرام ہو رہا ہوتا ہے اسے کاٹ کر ہیرا منڈی کا منظر پیش کیا جاتا ہے اور یہ ادارے قومی خدمت کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں دینی علماء میں سابقہ علماء حق کا تقویٰ نہیں رہا یہ اپنا فتویٰ طالبان پر ضرور دیں مگر حکومت کی کارکردگی بہ سلسلہ قرارداد مقاصد کے مطابق علماء کلمۃ اللہ اور سچا فتویٰ صادر کریں۔ علامہ اقبال فرما گئے۔
تیرے فکر و عمل سے آرہی بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری
قانون سازی سے زیادہ کردار سازی کیلئے نیت کی صفائی کی ضرورت ہے۔ جس پر توجہ حکومت نہیں دے رہی۔
(محمد امین جڑانوالہ 041-4310600)