پاکستان اور جمہوریت !

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پاکستان اور جمہوریت !

مکرمی!کئی سال قبل ایک بڑے سیاسی لیڈر نے موچی دروازہ لاہور میں جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانوں میں مکمل اتفاق رائے صرف قبرستان میں ہوتا ہے۔ آزادی رائے کے ماحول میں سیاست دانوں اور سوچنے سمجھنے والے افراد میں اختلاف رائے لازمی امر ہے تا ہم قومی مفاد میں لازم ہے کہ اختلاف رائے ایک حد تک رہے لڑائی اور جھنگ کی صورت اختیار نہ کرے اور قومی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔مغربی ممالک میں ترقی یافتہ جمہوریت کی موجودہ شکل کئی صدیوں کے تجربات کے بعد مضبوط ہوئی۔ جمہوریت یقینا عوامی فلاح اور ترقی کی رفتار کیلئے لازم ہے کیونکہ اس نظام کے تحت عوامی جواب دہی کا لازمی عنصر شامل ہوتا ہے۔ انگلستان میں جمہوریت موجودہ سطح پر کوئی چار سو سالوں کے تجربات کے بعد پہنچی ہے۔ امریکہ میں بھی تقریباً تین سو سالکے تجربات کے بعد جمہوری نظام مستحکم ہوئی ہے۔ درمیانی مدت کے انتخابات اسی صورت میں ہوتے ہیں جب اقتدار میں حامل حکومت اپنی کارکردگی سے عوام اعتماد فی الحقیقت کھو دے‘ اگر کوئی حکومت Look،Busy and do nothing (مصروفیت کمال کی مگر مﺅثر نتائج کے بغیر)کی صورت میں عوامی نفرت اور احتجاج حد سے بڑھا دیتی ہے۔ ایسی صورت میں وسط مدتی انتخابات سے ایک سال قبل کروائی جا سکتی ہیں۔ اس کیلئے پیش از وقت احتجاجی سیاست اس وقت مناسب نہیں لگتی۔ جمہوریت کی تاریخ سے عیاں ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جمہوری نظام ارتقائی کل سے مستحکم ہوا۔ پاکستان میں جمہوری عمل ترقی پذیر ہے مسلسل تجربات سے ہی جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اختلاف رائے اور مثبت تنقید اس نظام کو مضبوط کریگی۔ جمہوری تجربات میں بندش نقصان دہ ہوگی۔ میڈیا اور عدلیہ کی آزادی جمہوریت کو قوت فراہم کرتے ہیں۔ انکی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔(میاں فضل احمد صدر انجینئر سٹڈی فورم)