تنخواہوں میں اضافہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
تنخواہوں میں اضافہ

2010ءسے پہلے مرکزی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا لیکن پنشنروں کی پنشن میں صرف 20 فیصد اضافہ کیا۔ اس وقت کے صدر مملکت نے جو 50 فیصد اضافے کا حکم دیا تھا تووہ دونوں کے لیے تھا لیکن بیورو کریٹس نے ملازموں کی تنخواہ کا آرڈر تو 50 فیصد کی شرح سے کیا لیکن پنشنروں کے معاملے میں ڈنڈی مار گئے اور انہیں صرف 20 فیصد اضافہ دیا۔ اس ہیرا پھیری کا راز کھل گیا اور معاملہ سپریم کورٹ کے نوٹس میں لایا گیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ پنشنروں کو بھی 50 فیصد اضافہ دیا جائے۔ مرکز اور پنجاب کے سوا باقی تمام صوبوں نے اس حکم پر عمل کیا۔ صرف پنجاب کو یہ حکم پسند نہ آیا اور انہوں نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر کے سٹے آرڈر لے لیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ آپ کی وساطت سے میں چیف جسٹس پاکستان کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس پنشن کیس کا جس میں معزز عدالت پہلے حکم جاری کر چکی ہے اب اسے فوری طور سماعت کا شرف بخشیں اور اس کا جو بھی مناسب فیصلہ ان کی نظر میں ہو صادر فرما کر پنشنروں پر رحم فرمائیں۔(ذوالفقار حسین خان ۔ شور کوٹ، جھنگ)