بلاول آ گیا میدان میں ” ہے جمالو“

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
بلاول آ گیا میدان میں ” ہے جمالو“

مکرمی! بلاول کی پہلی رونمائی کے وقت اس نے بھٹو ازم کی بات بڑے شدومد سے کی، حالانکہ اسے بات زرداری ازم کی کرنا چاہئے تھی۔ جو بھٹو ازم سے بھی زیادہ مشہور اور منافع بخش ہے اور یہ ملک و قوم اور PPPکے گوڈوں گیٹوں میں بیٹھا واضح محسوس ہوتا ہے۔ بھٹو اور بینظیر کے نام پہ ووٹ اگر نہ ملتے ہوتے تو ان کا کوئی نام لینا بھی گوارا نہ کرتا تب یہ بھی زرداری ازم کا ایک حصہ ہوتا۔ ان کی قبروں کی مجاوری اب اس ازم کی ایک طرح سے مجبوری ہے۔ بلاول زرداری ازم کے ترکش کا آخری تیر ہے۔ نشانہ پہ اگر نہ بیٹھا تو ہنڈرڈ پرسنٹ پارٹی کو یہی ازم لے ڈوبے گا۔(محسن امین تارڑ ایڈووکیٹ )