کالا باغ ڈیم اور اتفاق رائے کی راگنی

مکرمی! میاں نوازشریف نے بھی سیاسی مفاد کے کے تحت کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اتفاق رائے کا راگ شروع کر دیا ہے۔ عمران خان نے بھی کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا لیکن پی ٹی آئی کے منشور میں اس کا ذکر گول کر دیا گیا۔ میں میاں نوازشریف، آصف علی زرداری اور دوسرے قومی سطح کے لیڈروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرتے وقت قوم سے کب اتفاق رائے حاصل کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کرتے وقت کون سا اتفاق رائے حاصل کیا تھا۔ میاں نوازشریف نے پانچ ایٹمی دھماکے کرتے وقت چاروں صوبوں سے کب اتفاق رائے حاصل کیا تھا۔ پرویز مشرف نے امریکہ کی ایک کال پر دہشت گردی کی جنگ میں شرکت اور پاکستانی ہوائی اڈوں پر قبضہ کرواتے وقت کب قوم سے اتفاق رائے لیا تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد پر بمباری کر کے بچیوں اور ہزاروں قرآن پاک شہید کرتے وقت کیا قوم سے اتفاق رائے حاصل کیا تھا؟ پاکستان کی تقدیر سے کھلواڑ کرنے والے حکمرانو! خدا کا خوف کرو ایک دن آپ نے خدا کی عدالت میں حاضر ہو کر حساب دینا ہے خدارا اب ہی ملک کے مفاد کا سوچو اور فوراً اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم شروع کر دیں بے شک اس کا نام کوئی بھی رکھ لیں۔(محمد آصف جاہ غلہ منڈی چیچہ وطنی ضلع ساہیوال)