پاکستانی لیڈر شپ کی جگ ہنسائی کیوں؟

مکرمی ! حضرت لقمانؑ کا ذکرِ خیر قرآن پاک کی سورة لقمان میں موجود ہے وہ اللہ کے نیک بندے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و فہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا ان سے کسی نے پوچھا فہم و شعور کیسے حاصل ہوا، فرمایا ”راست بازی، امانت اور بے فائدہ باتوں سے اعراض کرنے سے“ ان کی زندگی غلامی میں بھی گزری۔ ایک دفعہ ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے دو بہترین حصے لاﺅ۔ وہ زبان اور دل نکال کر لے آئے۔ ایک دوسرے موقعہ پر پھر آقا نے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے بدترین حصے لاﺅ۔ آپؑ پھر وہی زبان اور دل آئے۔ وضاحت پر فرمایا اگر یہ دونوں گوشت کے لوتھڑے درست رہیں تو ہر ذی روح درست، اگر یہ خراب ہوں تو ہر ذی روح بدزبان و بدکردار ہو جاتا ہے۔ لیڈر شپ کے بارے سُن رکھا ہے کہ یہ بڑی مہذب و بااخلاق شمع جلا کر ماحول کو منور کرتی ہے مگر افسوس پاکستانی لیڈر شپ کے بعض کردار بدزبانی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ذاتیات کو خاک آلود کرنے کیلئے بڑے اخلاقی حملے کرتے رہتے ہیں۔ ایسے کردار ملک و ملت کیلئے کیسے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان لیڈر شپ کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہئے وگرنہ ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ (چودھری نور احمد نور ۔ پرنسپل بھنڈاری سکولز ایمن آباد گوجرانوالہ)