غزل.... جسٹس (ر) محمد الیاس

شام الم ڈھلی ہے اور اپنا یہ حال ہے
نہ غمگسار کوئی ہے نہ ہم خیال ہے
مہر و وفا و عفو کیوں ناپید ہو گئی
ہر بے نوا کے ہونٹ کے ہونٹ پر یہ ہی سوال ہے
سنتے اذاں بلال نبی کی ملائکہ
ایسی اذاں نہ دیتا کیوں اب کا بلال ہے
اہل ہنر کو ٹھوکریں دے کر وہ یہ کہیں
مشکل میں پڑ گئے ہیں کہ قحط الرجال ہے
چاہت ہے دل کی بات‘ یہ کہنا نہیں درست
درکار اس کے واسطے حسن و جمال ہے
جو اقتدار سے ہوئے محروم جان لیں
ہر اک کمال کے لئے عہد زوال ہے
طے کیں بہت مسافتیں کہسار و دشت میں
الیاس اب تو گھر میں بھی چلنا محال ہے