اقلیت اور اکثریت

مکرمی! آپ کے موقر روزنامہ کی وساطت سے محترم نوازشریف کی خدمت میں ایک ہے۔گزشتہ پانچ برس کی نام نہاد مفاہمتی پالیسی کے اثرات کا خمیازہ ہماری قوم نہ جانے کب تک بھگتے گی۔ لیکن آپ کو اکثریت ملنے کے بعد ہم میرٹ کی عملداری کی بجا طور پر توقع رکھتے ہیں۔ مفاہمتی پالیسی کی چھتری تلے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی اور وزیر داخلہ سیاسی جماعتوں کے ذیلی تنظیموں کی لڑائی کو گرل فرینڈ کی لڑائی قرار دیتے رہے۔ ملک کے اثاثے کرپشن کی نذر ہوتے رہے لیکن نام نہاد مفاہمتی پالیسی انصاف کی عملداری کے آڑے آتی رہی۔ ملک لٹتا رہا لیکن مفاہمتی پالیسی پر آنچ نہ آنے دی گئی۔ میاں صاحب! تمام سیاسی جماعتوں سے پاکستان کی ترقی کے ایجنڈے پر بات کریں ان کی جائز تجاویز کو اہمیت دیں اور ملک کی بہتری کے لئے ان پر عمل بھی کریں لیکن ”مفاہمت“ کے معانی کو ملک کی ابتری سے تشبیہ دینے سے گریز کریں بالخصوص مولانا فضل الرحمان صاحب کے ماضی کے رویوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان سے معاملات طے کئے جائیں/ بڑھائے جائیں اور اقلیت کو اکثریت پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔ ان کی خدمات جو جمہوریت کے تسلسل کے لئے انہوں نے انجام دے رکھی ہیں ان سے صرف نظر نہ کیا جائے اور کسی بھی ایسے معاملات میں جس کا براہِ راست تعلق دو قومی نظریے، کشمیر کے استصواب رائے اور مذہبی امور سے ہو، قطعی اجتناب کیا جائے۔(عرفان عالم اگوکی روڈ سیالکوٹ )