مراسلات ۔۔۔ ایڈیٹر کی ڈاک

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی ہے ملک و قوم کی رسوائی
مکرمی! ہمارے حکمرانوں نے دو پاکستانیوں کے قاتل امریکن ریمنڈ ڈیوس کو جس ڈرامائی انداز سے رہا کیا ہے پاکستانی قوم کو اقوام عالم میں جس طرح ذلیل و رسوا کیا اس بزدلی اور ضمیر فروشی کی پوری دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی، ساری قوم اس جرم عظیم پر سراپا احتجاج ہے اور سوچنے پر مجبور ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا واحد ایٹمی قوت کا حامل ملک ہونے کے باوجود حکمران امریکہ کے سامنے آن واحد میں ریت کی دیوار کی مانند کیوں ڈھیر ہو گئے جس کی وجہ سے حکمرانوں نے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی ناک کٹوا دی، یہاں مجھے ٹیپو سلطان کا وہ قول یاد آ رہا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے، کاش ہمارے حکمرانوں کی بھی یہی سوچ ہوتی۔ (بنیاد پرست، محمد اقبال ایبٹ آبادی گولڈ میڈلسٹ، اپرملکپورہ شملہ ہل، ایبٹ آباد)
امریکی پادری کی ناپاک جسارت
مکرمی! ملعون امریکی پادری ٹیری جونز کی نگرانی میں (نعوذ باللہ) قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی خبر پڑھی تو آسمان جلتا ہوا ،زمین ہلتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ اُمت مسلمہ کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ عالم اسلام کے ہر ہر فرد کا دل زخمی، ماتم کناں اور تن ہمہ داغ داغ ہے اور درد کا یہ احساس لفظوں میں سما گیا ہے اور وہ بکھرے بکھرے دکھائی دے رہے ہیں۔ہم مسلمان ہیں اور اپنے دین حق کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور دین حق کی حفاظت صحیح معنوں میں تب ہو گی جب یہ دین ملک، شہر، بستی اور گھر کے ہر فرد پر نافذ ہو گا، ہر فرد کا دل ایک مومن کا دل ہوگا!! تم ایک ایسی منفرد ملت بن جائو گے کہ دنیا کی طاقتیں نہ کبھی اس جیسی مثال لا سکی ہیں اور نہ ہی کبھی لا سکیں گی۔ انشاء اللہ ( کامران نعیم صدیقی،شاہدرہ، لاہور۔فون 0321-4583855 )
امداد کی اپیل
مکرمی! بندہ ڈھوالنول عقب رہبر بس سٹینڈ کا رہائشی ہے۔ ملکی حالات بجلی کی لوڈشیڈنگ میری بربادی کا سبب بنی کاروبار کی ضرورت پوری کرنے کیلئے سود پر قرض لینا پڑا اب جو کماتا ہوں سود کے پیسے ادا کر دیتا ہوں جس وجہ سے نہ کچن چلتا ہے اور نہ بچے پڑھائی کر سکتے ہیں۔ میری درد دل مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ میری مالی امداد فرما کر سود والے لوگوں سے نجات دلوائیں۔
(عبدالجبار اکائونٹ نمبر 5424-0014087-0061 NiB بینک ملتان روڈ سکیم موڑ برانچ لاہور)
کمشنر ساہیوال ڈویژن کے نام
مکرمی ! پاکپتن بازار ساہیوال کا موجودہ نکاسی آب کا انتظام اپنی مدت میعاد پوری کر چکا ہے اور جگہ جگہ سے بند ہونے کی وجہ سے چالو حالت میں نہ ہے جس کی وجہ سے ہم اہالیان پاکپتن بازار کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکپتن بازار جو کہ ایک اہم تجارتی مرکز ہے میں ٹف ٹائل لگانے کا کام بھی شروع ہونے والا ہے اس لئے ٹف ٹائل لگائے جانے سے قبل سیوریج بچھا دیا جائے۔ (مرکز انجمن تاجران، ساہیوال)
بھاشا ڈیم ہو یا کالا باغ ڈیم یا کوئی اور ڈیم بنا لیں
مکرمی! بی آر بی نہر اور ہیڈ بلوکی کے ذریعہ سیراب ہونے والے علاقہ اور ہیڈ سلیمانکی سے نکلنے والی نہروں میں پانی کہاں سے لائیں گے؟ اور پھر ایک بہت بڑے سیلابی ریلے کا کیا تدارک ہے جو بھارت نے ہمارے لئے ڈیموں کے دروازے کھول کر‘ موسم برسات میں ہمیں تحفہ دینا ہے۔ ریلہ جلد آنے والا ہے۔ (ایک پاکستانی)
خونِ مسلم ارزاں ہے کیا
مکرمی! ہم اقبال کے خوابوں کی سرزمین اور قائداعظم کے آزاد پاکستان میں رہتے ہیں اور حال ہمارا یہ ہے کہ کوئی مسلمان اگر کسی قادیانی یا غیر مسلم کو قتل کرتا ہے تو ہم اسے میڈیا پر پیش کرتے ہیں اخباروں میں بڑی بڑی ہیڈ لائنز بنتی ہیں پھر ایوانِ صدر سے ریڑھی والا تک سب مذمت کرتے ہیں۔قاتل کو سزا دینے کے وعدے کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی قادیانی یا عیسائی کسی مسلمان کو قتل کرے تو چھوٹی سی خبر بنتی ہے۔میڈیا بے خبر رہتا ہے کیا خونِ مسلم اتنا ارزاں ہے کہ ہم اپنے مسلمان ملک میں اور چاکری اغیار کی کرتے ہیں۔شاداب نگر چنیوٹ میں صحافی ابرار کو قادیانیوں نے قتل کیا اور اسے انہی لوگوں سے خطرہ بھی تھا۔معمولی سی خبر لگی کسی نے مذمت نہیں کی قاتل کو پکڑنے کا دعویٰ بھی نہیں ہوا۔میڈیا بے خبر رہا۔ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس اور خادم اعلیٰ خاموش کیوں ہیں؟ (ریحان سعیدہ۔ برنی روڈ گڑھی شاہو لاہور)
پاکستان کو مقروض کرنے کا مجرم کون؟
مکرمی! سیاستدان حضرات،بیورو کریٹ حضرات اور جو بھی ذمہ دار حضرات ہیں فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں ہم پاکستان کو مقروض کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ چلو ٹھیک ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ اگر واقعی ہی آپ حضرات بے گناہ ہیں تو آپ حضرات پر الزام تراشی بند ہونی چاہئے اور جو بھی مجرم بنے اسکو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ استثنٰی کا قانون ختم کر دیا جائے۔ (شبیر احمد لالیکا 0300-7929197)
مجبوری کیا ہے، وطن کے ناخدائو
مکرمی! میرے وطن کے حکمرانوں آپ نے امریکہ کی عرصہ دراز سے غلامی کرکے دیکھ لی، آپ کی دوربیں نگاہوں نے ان کی باریک بینیوں کو نہیں سمجھا، انہوں نے آپ کے وطن کو پارہ پارہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اب آپ امریکی غلامی چھوڑ دیں، خدارا اپنے آبائو اجداد کی قربانیوں کو اتنا سستا نہ سمجھیں۔ اس ملک کو اتنی آسانی سے حاصل نہیں کیا تھا جتنی آسانی سے آپ اسے غیروں کے ہاتھوں دے رہے ہیں۔وطن عزیز کے ناخدائو آخر امریکی غلامی کی مجبوری کیا ہے۔ (مرزا علی رضا بیگ،کوٹ مرزا ہاشم ڈاکخانہ بھائی پھیرو تحصیل پتوکی ضلع قصور)
باکمال حکمران…لاجواب حکومت!
مکرمی! ریمنڈ ڈیوس کیس کے مقدمہ قتل کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں:-1ریمنڈ ڈیوس 2 پاکستانی شہریوں کے قتل میں گرفتار ہوا جسے حوالات میں تو بھیجا گیا مگر ملزم کو مہمان ہی تصور کیا۔ -2ریمنڈ ڈیوس سے جاسوسی کے آلات و کاغذات برآمد ہوئے لیکن حکمرانوں نے اسے قصداً دبا دیا۔ -3ریمنڈ ڈیوس کیس کی عدالتی کارروائی چلتی رہی اور حکمران مقتولین کے ورثاء کو لالچ دیکر ملزم مذکور سے صلح پر مجبور کرتے رہے۔ -4ریمنڈ ڈیوس کیس میں صوبائی اور مرکزی دونوں حکومتوں نے ملزم کی رہائی کی خاطر آپس میں نورا کشتی کی۔ -5ریمنڈ ڈیوس کے مقدمہ قتل میںمسٹر یوسف اوجلہ سیشن جج نے ’’خود ساختہ ریت‘‘ کا سہارا لے کر ملزم کو بری کرایا اور اپنی جان چھڑائی۔ -6ریمنڈ ڈیوس کو رہائی ملتے ہی حکمرانوں نے اسے بحفاظت جہاز میں بٹھا کر امریکہ روانہ کیا اور خدا حافظ کہا۔ اسے کہتے ہیں ’’باکمال لوگ…لاجواب سروس‘‘ (میاں خالد اختر کُرڑ، چک چٹھہ حافظ آباد)
بیچ دیتے ہیں
فقیروں کی طرح در در صدائیں بیچ دیتے ہیں۔۔۔ یہ کیسے لوگ ہیں کیسے دعائیں بیچ دیتے ہیں
ضمیروں کے چراغوں کی ضیائیں بیچ دیتے ہیں۔۔۔ یہ مریم اور زینب کی ردائیں بیچ دیتے ہیں
کسی کی زندگی اور موت سے مطلب نہیں ان کو۔۔۔ یہ شہر درد میں نقلی دوائیں بیچ دیتے ہیں
سلامت ہاتھ پائوں ہیں مگر محنت نہیں کرتے۔۔۔ اپاہج ذہن کے مالک انائیں بیچ دیتے ہیں
ہوس کی انتہا یہ ہے کہ اب بھی جعفر و صادق۔۔۔ مناسب دام لگ جائیں تو مائیں بیچ دیتے ہیں
(عبدالرزاق صدف، چیچہ وطنی روڈ، بورے والا)
شاہ حسینؒ کے عرس کے موقع پر
شاہ حسینؒ فقیر نمانا۔۔ میرا سائیں، سچا شاعر
ہم بے کاسہ لوگوں میں۔۔ اُس نے میری ہونٹوں سے
دکھ دوہے سُلگائے
اُس نے میری دُکھتی رگ پر اپنے
حرف کی پوریں رکھیں
اس کی سوچیں اس دھرتی پر کھلنے والے پھول
ایسے پُھول کہ جن کی خوشبو کُل دنیا میں پھیلی
شاہ حسینؒ فقیر نمانا۔۔ تخت نشیں ہر دل میں
اُس کی شاہی کا سکہ۔۔ پیار بھرا ایک بول!
تنویر ظہور