پہلے ہی کمر خم تھی سو اب ٹوٹنے کو ہے!

مکرمی! موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے مہنگائی کے علاوہ کوئی کارنامہ سرانجام نہ دے سکی۔ آئے دن مہنگائی میں اضافہ کر کے عوام کے دکھوں اور پریشانیوں میں اضافہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اب ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کی چکی کے دو پاٹوں میں پیس کر رکھ دیا ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں اور انکے اتحادیوں نے اپنے اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر 18 ویں ترمیم کو منظور کیا۔ عوام کو تو بہت خوشی ہوتی کہ 18 ویں ترمیم کے آنے سے آٹا چینی گھی اور روزمرہ ضرورت کی دوسری اشیاءسستی ہو جاتیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھتیں لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی۔ گھر گھر گیس کے چولہے جلتے رہتے تب عوام کو پتہ چلتا کہ 18 ویں ترمیم انکے دکھوں کا مداوا کرنیکا نام ہے۔ 18 ویں ترمیم حکمرانوں کو مبارک ہو۔ ملک پہ ”نحوست“ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔(راو محمد محفوظ آسی ٹاون شپ لاہور)